خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 892
خطبات طاہر جلد 17 892 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء کیونکہ جو چوٹی کے اہل لغت ہیں انہوں نے مبتدا اور خبر وغیرہ کی اور متعلق خبر وغیرہ کی بحثیں اٹھائی ہوئی ہیں کہ ان کی وجہ سے جو اردو میں ترجمہ کیا جائے اس میں کچھ معمولی فرق پڑے گا اور یہ فرق دکھائی بھی دیتے ہیں لیکن جہاں تک مضمون کا تعلق ہے مضمون وہی رہتا ہے۔تو اس تمہید کے ساتھ یعنی اس اعتذار کے ساتھ کہ اس مجبوری کی وجہ سے بعض احباب کو ترجمے میں تھوڑا سا فرق دکھائی دے گا میں اب دوبارہ پھر ترجمہ پڑھنا شروع کرتا ہوں : " رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسی ہدایت کے طور پر جو بینات پر مشتمل اور حق و باطل میں تمیز کر دینے والی ہے۔پس جو بھی تم میں سے اس مہینہ کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہوتو گنتی پورا کرنا دوسرے ایام میں ہوگا۔اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم (سہولت سے) گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو “ اس ضمن میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ایتم کی جو احادیث میں نے چینی ہیں ان میں سے چند آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مسند احمد بن حنبل بحوالہ فتح ربانی سے یہ روایت لی گئی ہے۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی للہ یہ تم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور جس نے رمضان کے تقاضوں کو پہچانا اور اس کے دوران ان تمام باتوں سے محفوظ رہا جن سے محفوظ رہنا چاہئے تھا تو ایسے روزہ دار کے لئے اس کے روزے اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔“ الفتح الرباني لترتيب مسند امام احمد بن حنبل، کتاب الصيام، باب فضل صیام رمضان و قیامه / مسند امام احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند ابي سعيد الخدری ،حدیث نمبر : 11524) بالکل واضح حدیث ہے اس کے سمجھنے میں کوئی ایسی مشکل نہیں جو عام سادہ اُردو جاننے والے کے لئے مشکل پیش ہو۔رمضان کے مہینے کو اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر ادا کیا جائے اور روزے رکھے جائیں تو یہ اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں یعنی رمضان کے مہینہ میں پھر وہ روحانی لحاظ سے دھل کر نکلتا ہے اور کوئی پرانا داغ اس کے روحانی بدن کو میلا کرنے والا باقی نہیں رہتا۔