خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 886 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 886

خطبات طاہر جلد 17 886 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء و نیکی محض اس جوش کے تقاضے سے کرتا ہے جو ہمدردی بنی نوع کے واسطے اس کے دل میں رکھا گیا ہے۔“ لوگوں کی ہمدردی اس کے دل میں ہے وہ بے اختیار ہے اس وجہ سے، ایک پھول کے دل میں خوشبو رکھی گئی ہے وہ خود بخود پھیلتی ہے اس میں پھول کی ایک بے اختیاری ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ دل میں بنی نوع انسان کی ہمدردی اتنی بے اختیار ہے کہ ناممکن ہے کہ وہ ہمدردی دل سے ظاہر نہ ہو۔ایسی پاک تعلیم نہ ہم نے توریت میں دیکھی اور نہ انجیل میں۔ورق ورق کر کے ہم نے پڑھا ہے مگر ایسی پاک اور مکمل تعلیم کا نام ونشان نہیں (ہے)۔“ ( الحکم جلد 12 نمبر 41 صفحہ : 11 مؤرخہ 14 جولائی 1908ء) یہ تمام دنیا میں احمدیوں کے لئے ان کے ہاتھ میں عیسائیوں سے مقابلے کا ایک نسخہ آ گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فرمارہے ہیں لفظاً لفظاً درست ہے کہ ورق ورق پڑھا ہے آپ نے اور ساری تو رات اور ساری انجیل میں یہ تعلیم دکھائی نہیں دی جو قرآن کریم کی ہے۔ایسی پاک اور مکمل تعلیم کا نام ونشان تک نہیں ہے۔تو آپ چیلنج کر کے لوگوں کو بتا ئیں ان سے پوچھیں، لا ؤ دکھاؤ کہاں ہے یہ تعلیم ؟۔آپ حیران ہونگے کہ کہیں یہ تعلیم دکھائی نہیں دے گی کہ نیکی دل کے ایسے طبعی جوش سے اٹھ رہی ہو، بنی نوع انسان کی ہمدردی جس میں نہ جزا کا سوال ہو اور نہ اس کی پرواہ ہو کہ کوئی دعائیں دے بلکہ بے تعلق ہو انسان اس چیز سے۔یہ تعریف نیکی کی آپ کو کسی اور کتاب میں نہیں ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو بڑھا کر ایتاتِي ذِي الْقُرْبى (النحل: 91) کے مضمون میں داخل فرماتے ہیں کیونکہ یہ احسان کا مضمون تھا جو بیان ہوا ہے اس سے اگلا مقام ایت آئی ذی القربی کا ہے کہ اپنے قریبیوں کو عطا کرنا۔اس میں تو یہ مضمون اور بھی زیادہ رفعت اختیار کر جاتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اس کو پڑھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس مضمون کی کیسی بلندی بیان فرمائی ہے جہاں انسان کا تصور بھی نہیں جاسکتا ، عام انسان کا جو اللہ سے نور یافتہ نہ ہو اس کا تصور بھی نہیں جاسکتا۔اس طرح بات شروع کرتے ہیں۔