خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 884 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 884

خطبات طاہر جلد 17 884 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں اور اگر تم کفر کرو تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ یعنی انسان پر جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے۔“ اب وہی مضمون جو پہلے میں نے کھولا ہے اسی مضمون کی تائید میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور الٹا ظلم شروع کر دے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا (ہے) اور عذاب کرتا ہے۔“ (رساله تشخیذ الا ذبان ماہ اپریل 1908 جلد 3 نمبر 4 صفحہ :164) یہ عمتیں چھینے کا مضمون بھی ایک بڑی تنبیہ ہے لیکن ضروری نہیں کہ ایک انسان اپنی زندگی میں یہ واقعہ دیکھ لے یا ایک قوم کو فوراً سمجھ بھی آجائے کہ کیوں یہ نعمتیں چھینی جا رہی ہیں ۔ بسا اوقات خدا تعالیٰ قوموں پر احسان کرتا ہے مگر وہ اپنی طاقت کو ظلم کے طور پر استعمال کرتے ہیں جیسے امریکہ کے تکبر کا حال ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ محض یہ تکبر کا اظہار ہے، ایسا ظلم کیا جا رہا ہے مسلمانوں پر ہر جگہ یا دنیا پر ہر جگہ کہ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ آخران کی پکڑ کیوں نہیں آتی لیکن اللہ تعالیٰ پکڑ میں دھیما ہے اور یہ قطعی بات ہے کہ ایسی قو میں پھر عروج سے گرادی جاتی ہیں اور یہ واقعہ بعض دفعہ ایک ایک ہزار سال کا عرصہ لیتا ہے ۔ اور وہ دن خدا کا جس میں ایک ہزار سال لگتے ہیں عروج کے اور پھر واپس آنے کے اس سے ظاہری طور پر بھی مراد لی جاسکتی ہے کہ قوموں کے عروج وزوال بعض دفعہ ایک ایک ہزار سال پر منتج ہوتے ہیں لیکن بعد والے دیکھ لیتے ہیں کہ کیا ہوا ان کے ساتھ اور جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو ایسی پکڑ آتی ہے کہ ان کو کلیہ ملیا میٹ کر کے رکھ دیتا ہے، نام و نشان بھی نہیں رہتا ، تاریخ کے ورقوں میں وہ لوگ بکھر جاتے ہیں لیکن یا درکھیں کہ جو اللہ کے اپنے پیاروں پر ظلم کرتے ؟ تے ہیں ان کے انجام کے لئے ہزار سال کا انتظار نہیں کیا جاتا، وہ بہت جلد ظاہر کر دیا جاتا ہے۔ اور بسا اوقات وہ لوگ جن پر ظلم کیا گیا ہو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیتے ہیں کہ اس طرح خدا نے ان سے سلوک کیا مگر بعض دفعہ دیکھتے بھی ہیں مگر پتا نہیں لگتا ان کو یا جن کے ساتھ خدا کا سلوک ہو رہا ہے وہ نہیں سمجھتے