خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 883 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 883

خطبات طاہر جلد 17 883 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء ہے یعنی حصول علم جو خدا کی طرف سے عطا کردہ علم کے نتیجہ میں ہوا کرتا ہے اس کو اتنے علوم مل جاتے ہیں کہ دُنیا کے بڑے بڑے عالم بھی اس کے سامنے بیچ ہو جاتے ہیں۔آنحضرت سلایا کہ تم اس مثال میں سب سے اوپر ہیں۔آپ سایا ہی تم کو خدا کی جناب سے وہ علم عطا کئے گئے جنہوں نے واقعہ عظیم الشان علوم کی صورت اختیار کر لی۔صرف یہ نہیں کہ اللہ نے جو کچھ دیا اپنی طرف سے دیا بلکہ قرآن کریم کا مطالعہ کر کے دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ کوئی دُنیا کا علم نہیں ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود نہ ہو اور آج تک مختلف علماء قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے جو کوشش کرتے رہتے ہیں وہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں پاسکے جو رسول اللہ صلی یہ تم کو اس قرآن کا مفہوم خدا کی طرف سے سکھا بھی دیا گیا۔ایسی عظیم الشان باتیں ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔آج کی دُنیا کو جن باتوں کا اب علم ہوا ہے اس زمانے میں رسول اللہ سلیم کوخدا تعالیٰ وہ علم عطا فر ما تا تھا اورصحابہ کے سامنے اس کو بیان بھی کر دیتے تھے اور صحابہ کو بعض دفعہ سمجھ بھی نہیں آتی تھی یہ کیا بات ہورہی ہے مگر رسول اللہ الی یم فرماتے تھے تو مان جاتے تھے۔اب پتا لگا کہ رسول اللہ صلی یہ تم اس زمانے کی باتیں کرتے تھے جس زمانے نے بہت بعد میں ظہور پذیر ہونا تھا تو علوم لدنیہ سے یہ مراد ہیں۔اور فرمایا اس امت کو سرفرازی بخشی ہے جس کا مطلب ہے آج بھی جو شخص تقومی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گا تو اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ اس کو اسی طرح علم لدنی عطا فرمائے گا۔پھر فرمایا: ” جب یہ سرفرازی بخشی گئی ہے تو عملی طور پر شکر واجب ہے شکر کے نتیجہ میں سرفرازی بخشی گئی اور جو سرفرازی بخشی گئی اس کے نتیجہ میں عملی طور پر شکر واجب ہے اور عملاً شکر وہی ہے کہ اس نعمت کو آگے لوگوں میں تقسیم کیا جائے ، جو علم ہے اسے تقسیم کیا جائے، جو ظاہری نعمتیں ہیں انہیں تقسیم کیا جائے اور اس طرح یہ اظہارِ شکر مزید نعمتوں پر منتج ہو۔یہ جو پہلا اقتباس ہے یہ رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء سے لیا گیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر تم میراشکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو عبارتیں ہیں قرآن کریم کی بعض آیات کے ترجمے اور تشریح کے طور پر ہیں۔یہ نہ سمجھے کوئی کہ مسیح موعود علیہ السلام اپنے متعلق فرمارہے ہیں۔