خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 882 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 882

خطبات طاہر جلد 17 882 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء اور خدا تعالیٰ متقیوں کو ضائع نہیں کرتا۔“ رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ نمبر :81) تو آج جماعت احمدیہ کے لئے دیکھیں اس میں کتنا بڑا سبق ہے۔ہمیشہ تقویٰ کی راہیں اختیار کریں تو اللہ آپ کی سرحدوں کی حفاظت فرمائے گا اور دشمن کئی قسم کے منصوبے بناتا رہے گا مگر وہ سارے منصوبے ناکام ہوں گے۔آپ کو علم بھی نہیں ہوگا کہ دشمن منصوبے بنا رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سر راہ پر کھڑا ان منصوبوں کے ضرر سے آپ کو بچاتا رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں اپنی دی ہوئی نعمت کو زیادہ کروں گا اور بصورت کفر عذاب میرا سخت ہے۔یاد رکھو کہ جب امت کو امت مرحومہ قرار دیا ہے اور علوم لدنیہ سے اسے سرفرازی بخشی ہے تو عملی طور پر شکر واجب ہے۔“ رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ :148) اب اس عبارت میں بھی بہت سے مضامین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجتمع کر دئے ہیں۔” جب امت کو امت مرحومہ قرار دیا ہے۔اب عام اُردو دان تو شاید سمجھ جائیں مگر سادہ لوگ جن کی زبان نسبتاً کم ہے یا جن کو اُردو نہیں آتی وہ نہیں سمجھیں گے کہ امت مرحومہ سے کیا مراد ہے؟ مرحومہ یا مرحوم عموماً فوت شدہ کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اکثر کہتے ہیں وہ تو مرحوم ہے، وہ تو مرحومہ ہے۔مراد اصل میں مرحوم سے فوت شدہ ہونا نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ ایسی امت ہے جس پر رحم فرما دیا گیا ہے یعنی اللہ نے بطور خاص اس پر رحم فرمایا ہے ، رسول اللہ صلی ایتم کی امت پر اور رحم کے نتیجہ میں ان کی حفاظت فرماتا ہے۔اور رحم کا نتیجہ پھر کیا کچھ ہے۔” علوم لدنیہ سے اسے سرفرازی بخشی ہے۔“ ایسے علوم عطا فرمائے ہیں جو اس کے دل اور اس کی فطرت سے پھوٹ رہے ہیں اور اللہ کی جناب سے ہیں۔پس یہ علوم جو اللہ کی جناب سے ہوں یہ اللہ کے رحم کی ایک علامت کے طور پر ہیں اور یہ علامت کئی طریقوں سے ظاہر ہوتی ہے۔بعض دفعہ جو اللہ کے حضور سے علم ملتے ہیں وہ ظاہری طور پر بھی بہت عظیم الشان ہو کر لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں اور بعض دفعہ ایک سادہ سے آدمی کو ، ظاہری تعلیم کچھ نہیں ہوتی مگر علوم لدنیہ کی شان، اس کی سوچ، اس کی فکر، اس کے ہر حصول علم کے ساتھ وابستہ ہو جاتی