خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 877 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 877

خطبات طاہر جلد 17 877 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء رض پسند فرماتا ہے کہ جو نعمت اپنے بندوں کو دے وہ ان بندوں کو اس نعمت سے سجا ہوا دیکھے لیکن یہ جو مضمون ہے یہ مختلف لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جن کی طبیعتوں میں اختلاف ہوا کرتا ہے اور مختلف درجات سے تعلق رکھتا ہے اولیاء سے بھی تعلق رکھتا ہے اور انبیاء سے بھی تعلق رکھتا ہے۔اور یہاں نعمت کے اثر کو دیکھنا مختلف مضامین آپ کے سامنے کھولتا چلا جائے گا یعنی ایک بندے میں نعمت کا اثر اور طرح سے دیکھا جائے گا، ایک بندے میں اور طرح سے دیکھا جائے گا۔بعض ایسے بزرگ اور اولیاء گزرے ہیں جنہوں نے ظاہر پر بھی اس کو محمول کیا اور بہت سج دھج کے رہتے تھے بہترین کپڑے پہنتے تھے۔ان کے مزاج میں یہ بات داخل تھی اور یہ کہا کرتے تھے کہ جب تک میرا خدا نہیں کہتا یہ میری نعمت ہے اس کو استعمال کرو اس وقت تک میں استعمال نہیں کرتا یعنی اللہ دیتا ہے اور چونکہ میرے مزاج میں شوق ہے کہ اچھا پہنوں اس لئے میں اچھا ہی پہنتا ہوں اور یہ بھی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔اللہ کی نظر اس بندے پر اس وجہ سے پیار سے پڑتی ہے کہ اس بنا پر پہن رہا ہے کہ میں نے اسے عطا کیا ہے۔اور آنحضرت صلی شام کے صحابہ میں بھی مختلف قسم کے صحابہ تھے۔بعض صحابہ خوش پوش تھے۔ان کو آنحضرت صلی لا یہ تم نے کبھی نہیں فرمایا کہ خوش پوشی چھوڑ دو اور ٹاٹ کے کپڑے پہن لولیکن جنہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہنے وہ بھی اچھے لگتے تھے کیونکہ ان کا طر ز شکر مختلف ہوا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کا بھی یہی حال تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خوش پوش تھے اور بڑے احتیاط سے خوبصورت کپڑے پہنا کرتے تھے لیکن کبھی ایک دفعہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کوٹو کا نہیں اور بعض صحابہ تھے جو بالکل درویشانہ عام سی زندگی کچھ غربت کی وجہ سے، کچھ غربت کے اختیار کرنے کی وجہ سے، حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ غریب تو نہیں تھے خدا تعالیٰ نے بہت عطا کیا تھا مگر پہنتے سادہ سے کپڑے تھے اور بعض ایسے صحابہ تھے جو غریب تھے اور جو کچھ ان کو خدا تعالیٰ نے دیا وہی پہنتے تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے بھی پیار کیا، تینوں سے اپنے اپنے مقام اور مرتبہ کے مطابق ان سے پیار کیا اور جو بالکل سادہ غریب پھٹے ہوئے کپڑوں والے ہوا کرتے تھے بعض دفعہ خود ان کے ساتھ جاکے بیٹھ جایا کرتے تھے تا کہ کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ میں خدا کی نعمت کے اس اظہار کو پوری وقعت نہیں دیتا۔خدا کی نعمت کا یہ بھی اظہار ہے، یہ بھی شکر کا طریقہ ہے جو دیا وہ پہن