خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 869
خطبات طاہر جلد 17 869 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء اب ہمارے مربی قدیر صاحب ( عبد القدیر قمر صاحب - مرتب ) اس وقت پچیس سال عمر قید کاٹ رہے ہیں ۔ ان کے حج نے واضح کر دیا تھا بار بار کہ میرے نزدیک تم بالکل معصوم ہو اور بری الذمہ ہو۔ اس کے بعد فیصلہ یہ دیا کہ عمر قید سے کم اس کی سزا نہیں ۔ تو اب وہ بظاہر اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا ہوا ہے، کیسے ممکن ہے کہ اللہ اسے چین سے رہنے دے۔ اس نے ہمیشہ کے لئے اپنی بربادی کے فیصلے پر دستخط کئے ہیں، اس پر مہر لگائی ہے۔ یا تو ایسا شخص خدا کی ہستی کا قائل ہی نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کوئی بھی نہیں جائے گا وہاں ، کچھ نہیں ہوگا تو اللہ کو قائل کروانا آتا ہے۔ اور اگر قائل ہے تو حد سے بڑھ کر جاہل ہے۔ جانتا ہے کہ ایک خدا ہے حساب لینے والا ، جانتا ہے کہ عدالت کی کرسی پر جب کوئی بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کی لازماً جوابدہی کرتا ہے خواہ وہ مومن ہو، غیر مومن ہو، جب بھی عدالت کی کرسی پر کوئی بیٹھے گا تو انصاف کا تقاضا پورا کرنا اس کا فرض ہے کیونکہ دُنیا میں قاضی ہی اللہ کے نمائندے ہوا کرتے ہیں اور یہ قضا کی نمائندگی دنیا میں ہر جگہ چل رہی ہے۔ تمام دنیا کی عدالتوں میں جو شخص بیٹھے گا اس پر یہ خدا تعالیٰ کا حکم لم صادر ہو گا خواہ وہ مومن ہو یا غیر مومن کہ فیصلہ انصاف سے کرنا ہے کیونکہ اللہ ہمیشہ انصاف سے کام لیتا ہے۔ پس اس کے باوجود اس نے انصاف سے کام نہیں لیا بلکہ ایک مظلوم اس کے ساتھ اور بھی بہت ۔ ساتھ اور بھی بہت سے ، وہ اس وقت جیلوں میں سڑ رہے ہیں جو زرہے ہیں جن کی سب ۔ ی سب سے بڑھ کر تکلیف یہ ہے کہ خدمت سے محروم ہو گئے ہیں۔ بڑی محنتیں کیں ، بڑا علم سیکھا اور زندگیاں وقف کر دیں کہ خدا ہم سے کام لے گا خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کریں گے اور اب بیکار بیٹھے ہوئے ہیں ۔ میں یہ پیغام دیتا ہوں کہ آپ بے کار نہیں ہیں۔ یہ کہنا تو آسان ہے کہ اللہ آپ کو جز مگر جو صبر کی حالت میں سے گزر رہا ہو وہی جانتا ہے کہ کتنا مشکل کام ہے۔ کوئی شخص زندگی بھر کے لئے جیل کی کال کوٹھڑیوں میں ٹھونس دیا جائے اور اس کو پتا ہو کہ کوئی مصرف نہیں ہے یہاں اور میری ساری پتا عمر کی کمائیاں گویا ہا تھ سے چھینی گئیں اور ضائع ہو گئیں اور وہ کمائیاں کیا تھیں، اللہ کی راہ میں خدمت کرنے کا شوق تو اس کی تکلیف کا تصور کر کے دیکھیں کہ کتنی زیادہ اس کی تکلیف ہے۔ ضمناً آپ سے گزارش ہے کہ اب رمضان آنے والا ہے، اپنی راتوں کو ایسے اسیرانِ راہِ مولا کے لئے گریہ وزاری کے ساتھ ایک واویلے میں تبدیل کر دیں، شور مچادیں، ایسا شور آپ کے دل سے اٹھے کہ اس شور سے نا ممکن ہے کہ خدا کی تقدیر حرکت میں نہ آئے۔ میں اُمید تو یہ رکھتا ہوں کہ وہ تقدیر