خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 870
خطبات طاہر جلد 17 870 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء حرکت میں آرہی ہے، آچکی ہے مگر جس نہج پہ چل رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بد بختوں کی پکڑ کا وقت آ گیا ہے۔جنہوں نے اس طرح معصوموں کے گھر برباد کئے ہیں، ان کی زندگیاں برباد کرنے کی کوشش کی ہے، ان کی زندگیاں لاز م بر باد کی جائیں گی۔یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ چین کے ساتھ اس دُنیا سے رخصت ہوں اور جتنا ان کی موت کا وقت قریب آئے گا اتنا ہی زیادہ ان کے دل میں آگ لگتی چلی جائے گی اور بھر کی لگتی چلی جائے گی۔اب وہ فیصلہ دے بیٹھے ہیں جس کو واپس لینا ان کے بس میں ہی کوئی نہیں ، اب توبہ استغفار کیسے ہو سکتی ہے۔اس لئے ظلم کرتے وقت انسان کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کبھی میں ظلم سے ہاتھ کھینچ بھی تو سکوں۔اس وقت پھر اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی تقدیر کام کر دیا کرتی ہے مگر جب ظلم سے ہاتھ کھیچنے کا انسان کو بس ہی نہ ہو، طاقت ہی نہ ہو تو وہ ظلم جو ہے وہ سوائے اس کے لئے ہمیشہ کی لعنت کے اور کچھ نہیں ہے۔تو ایسی قوم سے ہمیں واسطہ پڑ رہا ہے جو صلہ سے ہاتھ کھینچنے کی اب طاقت نہیں رکھتی اور بہت سے دانشور یہی بات لکھ رہے ہیں کہ احمدیوں کے متعلق جو انہوں نے قدم اٹھالئے ہیں اب ان میں توفیق ہی نہیں کہ وہ واپس کر سکیں۔بے نظیر ہوں یا نواز شریف صاحب ہوں دونوں جب بھی آئے ایسے اقدامات کئے جس سے احمدیوں کے سلاسل اور زیادہ تنگ ہوتے چلے گئے اور زیر پا اُن کے آگ کو اور بھی زیادہ روشن کیا تو ایسی زنجیروں میں باندھا گیا ہے جس کے نیچے ، قدموں کے نیچے آگ لگائی گئی ہے۔یہ آگ جو ان کے قدموں کے نیچے ہے اُن کے دلوں میں لازماً بھڑ کائی جائے گی۔یہ بے وقوف ہیں ان کو پتا ہی نہیں کہ دُنیا تو عارضی سی چیز ہے آج نہیں تو کل مرنا ہے اور ہمیشگی کی جہنم ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا کیونکہ یہ تو بہ کے دروازے بند کر چکے ہیں۔اگر تو بہ کے دروازے کھلے رکھے ہوتے تو پھر ہماری دعا ئیں بھی ان کے کام آسکتی تھیں مگر تو بہ کے دروازے تو بند کر بیٹھے ہیں۔پس یادرکھیں کہ اللہ کی ثنا میں اس کے شکر کا حق ادا کریں اور شکر کے حق ادا کرنے میں ایک یہ بات بھی ضمنا داخل ہے اور لازما داخل ہے کہ ہر قسم کے ظلم سے ہاتھ کھینچ لیں۔اللہ احسان کر رہا ہو اور آپ اس کے شکر کا حق ادا کرتے ہوئے لوگوں پر ظلم کر رہے ہوں یہ ہوہی نہیں سکتا۔یہ تضادات ہیں۔اسی کو حضور اکرم صلی یا تم نے کفر فرمایا ہے۔کفر کا مطلب ناشکری بھی ہے اور اللہ کا انکار بھی ہے تو اپنی عادت بنائیں کہ کبھی ظلم نہیں کرنا کسی پہ گھر میں ہو یا گھر سے باہر ہو۔بیوی بچے ہوں یا اعزاء اور