خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 857
خطبات طاہر جلد 17 857 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء مُسْتَقِيمٍ میں یہ معنی اس سیاق و سباق کے ساتھ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک ایسے رستہ پر چلا دیا نعمتوں اور شکر نعمتوں اور شکر نعمتوں اور شکر اور اس کے نتیجہ میں اللہ کا اجتبی کرتے چلے جانا کہ یہ راہ جو تھی یہ صراط مستقیم تھی اس راہ پر کبھی بھی کوئی آخر نہیں آیا کرتا، مسلسل آگے بڑھنے والی مسلسل آگے چلنے والی راہ ہے۔اور دوسری آیت میں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق وَ إِنَّه في الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ (البقرة:131) کا ذکر آتا ہے اس میں بھی دراصل اسی طرف اشارہ ہے کہ اس کی ہر آخرت صلاح کی آخرت تھی۔اس کا ہر بعد میں آنے والا فعل نیکی کا فعل تھا۔تو صرف دُنیا ہی میں اس نے حسنات سر انجام نہ دیں ، دُنیا ہی میں نیکیوں پر نہیں چلا بلکہ اللہ تعالیٰ نے دُنیا کی نیکیاں بھی اس کو عطا کیں اور ایسی صلاحیت عطا فرمائی ، ایسی پاکیزگی عطافرمائی جو دن بدن بڑھتی چلی جا رہی تھی اس دُنیا میں بھی اور اُس دُنیا میں بھی اس کے صالح ہونے کا اثر ان معنوں میں ظاہر ہوتا ہے جن معنوں میں یہ آیات بیان کر رہی ہیں کہ لا متناہی سلسلہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔یہ آیات شکر کی آیات ہیں اور آج بھی میں شکر ہی کے مضمون پر کچھ امور بیان کرنا چاہتا ہوں اور ان کا سب سے اول تعلق تو جلسہ سالانہ قادیان سے ہے جو حال ہی میں گزرا ہے۔اس جلسہ کے متعلق میں نے یہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان ہے کہ اس کثرت سے نو مبائعین جو ہندوستان کے رہنے والے نو مبائعین تھے تشریف لائے اور دوسرے ہندوستانی اس کثرت سے تشریف لائے کہ ان کی تعداد ہر دوسرے جلسہ سے بڑھ گئی سوائے اس جلسہ کے جس میں میں شامل ہوا تھا لیکن مجھے بعد میں توجہ دلائی گئی اور گھر میں ہی ہماری ایک بچی نے کہا کہ آپ کی بات اعداد و شمار کے لحاظ سے درست نہیں ہے کیونکہ ہندوستان کی جماعتیں آپ کے وہاں دورے کے وقت بھی اس کثرت سے شامل نہیں ہوئی تھیں اس لئے نیار یکارڈ ہے یہ۔یہ ایک نئی منزل ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں لے جا کر کھڑا کیا اور آگے بڑھنے کے لئے کھڑا کیا ہے ہر منزل پر انسان تھوڑا سا دم لیتا ہے پھر آگے چل پڑتا ہے۔تو واقعی یہ بہت گہری بات ہے۔اللہ تعالیٰ نے قادیان کے جلسہ میں اس کثرت سے ہندوستانیوں کو شامل ہونے کی توفیق بخشی ہے جن میں بھاری اکثریت نو مسلموں کی تھی کہ ایسی کثرت سے ہندوستانیوں کا کسی قادیان کے جلسہ میں شریک ہونا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔جس جلسہ میں میں شامل ہوا تھا، مجھے اللہ نے تو فیق عطا فرمائی تھی اس وقت پاکستان سے بڑی بھاری