خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 854
خطبات طاہر جلد 17 854 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء کم ہنسا کرو اور بہت زیادہ قہقہے لگانا اور ہنسنا ۔“ 66 قہقہے تو ترجمے والوں نے لکھ دیا ہے رسول اللہ صلی السلام نے فرمایا ہے کثرت سے ہنستے ہی چلے جانا اور یہی عادت ثانیہ ، فطرت ثانیہ بنالینا کہ ہر وقت مخول اور ٹھٹھے کا شغل ہے اور کبھی بھی آنکھیں خدا ترسی میں آنسو نہیں بہاتیں سنجیدہ باتوں میں دل بالکل نہیں لگتا صرف تمسخر ، صرف مذاق ۔ ۔ اگر یہ کرو گے تو پھر تمہارا دل مردہ ہو جائے گا ۔ ( کچھ بھی اس میں جان باقی نہیں رہے گی ) (سنن ابن ماجه، ابواب الزهد، باب الورع والتقوى ، حدیث نمبر : 4217) پس جماعت احمد یہ زندہ دلوں کی جماعت ہے ان کے دل اس طرح زندہ ہوں گے جیسے رسول اللہ صلی ال سلیم نے ان کو زندہ کرنے کے سبق ہمیں سکھا دئے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے اور قادیان کے جو باشندے اس خطبہ کو سن رہے ہوں وہ یہ یاد رکھیں کہ بہت سے غریب ان میں سے ہیں ان کو قانع بنائیں ان کو شکر گزار بنائیں اور ان کے سینوں میں زندہ دل پیدا کریں۔ تو انشاء اللہ یہی دس ہزار جو ہیں یہ لکھوکھہا بلکہ کروڑوں میں تبدیل ہو جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔