خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 855 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 855

خطبات طاہر جلد 17 855 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء شکر کے متعلق احادیث اور ہندوستان کے نومبائعین کا طرز عمل جلسہ سالانہ قادیان کے کامیاب انعقاد پر خدا تعالی کا شکر (خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 1998ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں : إِنَّ ابْراهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتَا لِلهِ حَنِيفًا ۖ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ) شاكرًا لِانْعِيهِ اجْتَبَهُ وَهَدْتَهُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (النحل: 122،121) 991 ط پھر فرمایا: یہ آیات سورة النحل کی 121 ویں اور 122 ویں آیات ہیں۔ان کا تشریحی ترجمہ یہ ہے کہ ابراہیم یقیناً ایک امت تھا، ایسی امت جو ہمیشہ تذلل اختیار کرنے والا۔امت کا لفظ تو کثرت سے لوگوں کے گروہ کے متعلق استعمال ہوا کرتا ہے مگر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ایک بڑی امت تھے۔ان معنوں میں یہ ایک خوشخبری بھی تھی اور ایسی خوشخبری تھی جو کبھی کسی اور نبی کو اس رنگ میں عطا نہیں ہوئی کیونکہ آنحضرت سلیم کی امت بھی ابراہیم ہی کی امت ہے اور اس پہلو سے ابراہیم کی اپنی امت کا جو پھیلاؤ ہے دُنیا میں وہ بھی بے شمار ہے۔تو ان امور کو پیش نظر رکھیں تو امت کا ایک بیج تھا اس کا یہ معنی بنے گا۔ابراہیم کے اندر ایک ایسی امت کا بیچ تھا جس نے سب دُنیا پر چھا جانا تھا اور اس پیج نے سب سے زیادہ اعلیٰ درجہ کی نشو ونما حضرت رسول اللہ صلی شما ایلم کے ظہور کے ذریعہ سے حاصل کرنی تھی۔قانتا : ہمیشہ تذلل اختیار کرنے والا اللہ کی خاطر، اللہ کے حضور ہمیشہ بچھا رہنے والا۔