خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 852 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 852

خطبات طاہر جلد 17 852 قناعت اختیار کر تو سب سے بڑا شکر گزار شمار ہو گا۔“ خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء اب وہی مضمون جو میں پہلے آپ کے سامنے عرض کر چکا ہوں قناعت کا شکر سے بہت گہرا تعلق ہے۔قناعت کا مطلب ہے تھوڑے پر بھی راضی ہو جانا اور قناعت ایسی کہ دُنیا کا سب سے زیادہ شکر گزار بن جائے۔یہ رسول اللہ سی شما یتم کی قناعت کے سوا کسی اور قناعت کا ذکر ہو ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے کہ آنحضور سلام کے سوا اس وقت اور آج یا آئندہ یا اس سے پہلے کبھی کوئی ایسا پیدا ہوا ہو جس نے قناعت ایسی اختیار کی ہو کہ خدا کا سب سے زیادہ شکر گزار بندہ بن گیا ہو۔تو ابو ہریرہ کو مخاطب کر کے وہ باتیں کہہ رہے ہیں جو اپنی سیرت کے نمونے ہیں۔قناعت کے مضمون میں رسول اللہ صلی لا یہ تم کی زندگی پر اگر آپ غور کریں تو یہ مضمون بھی داخل ہے کہ آپ صلی یہ یمن کوخدا تعالیٰ نے بے انتہا د یا مگر آپ سی ایم میں یہ حوصلہ تھا کوئی بناوٹ نہیں تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے شکر ادا کرنے کی خاطر اس کے بندوں میں تقسیم کر دیا اور بعینہ یہی سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آقا سے سیکھی تھی۔اب اس پر اگر آپ تصنع سے کوشش کریں گے تو آپ ہار جائیں گے اور ہوسکتا ہے ٹوٹ کر رہ جائیں مگر اگر قناعت کے مضمون کو سمجھتے ہوئے شکر ادا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے تو رفتہ رفتہ آپ کا حوصلہ بڑھنے لگے گا اور جو نعمت اللہ تعالیٰ آپ کو عطا کرتا چلا جائے گا آپ اس میں دوسروں کو شریک کرتے رہیں گے۔پھر فرمایا: جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو۔“ (سنن ابن ماجه، ابواب الزهد، باب الورع والتقوى ،حدیث نمبر : 4217) یہ تو نہیں ہوسکتا کہ تم قناعت بھی کر رہے ہو، شکر بھی ادا کر رہے ہو اللہ کا لیکن اپنے لئے کچھ اور پسند کرو، دوسروں کے لئے کچھ اور پسند کرو۔اس میں صدقات کی حکمت سکھا دی گئی ہے اور اس حکمت پر غور بہت ضروری ہے۔پھٹے پرانے کپڑے غریبوں میں تقسیم کرنا ہرگز صدقہ نہیں ہے۔ایسا کھانا غریبوں میں تقسیم کرنا جس میں کچھ بد بو پیدا ہو چکی ہو یہ ہرگز صدقہ نہیں ہے۔رسول اللہ صلی یا پیام فرماتے ہیں جو اپنے لئے پسند کرو وہ دوسروں کے لئے پسند کرو۔تو جب بھی آپ خدا کی خاطر صدقہ دینا چاہیں تو اپنے کپڑوں میں سے بھی اچھے چنا کریں۔اور ایسے حال میں چن لیا کریں جب آپ ان کو خود پہنیں تو آپ کو شرم نہ آئے۔وہ اگر پرانا بھی ہو تو وہ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر ہوگا کیونکہ اس پرانے میں