خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 843
خطبات طاہر جلد 17 843 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء اور آخری درجہ بھی یہی ہے تیری عبادت کریں گے تو شکر گزار ہوں گے، عبادت نہیں کریں گے تو شکر گزار نہیں ہوں گے۔پس رسول اللہ صلی یتیم کی دعاؤں میں جس طرح مالا میں موتی پروئے جائیں اس طرح یہ دعائیں ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں۔فرمایا تجھ سے تیری نعمتوں کے شکر اور احسن رنگ میں تیری عبادت بجالانے کی توفیق مانگتا ہوں۔پھر فرمایا یعنی خدا کے حضور یہ عرض کیا: ” اور میں تجھ سے قلب سلیم اور سچی زبان مانگتا ہوں۔“ (سنن النسائی، کتاب السهو، باب الدعاء بعد الذكر ،حدیث نمبر : 1305) حضور اکرم ایلیا ای ایم کا کلام بہت ہی گہرا اور عارفانہ کلام ہے۔قلب سلیم اور سچی زبان۔قلب سلیم تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں کامل ہو چکا ہو، ایسا جھک چکا ہو کہ اللہ کی فرمانبرداری کے سوا کوئی خیال تک نہ آئے اور اگر اس پر سچی زبان نصیب ہو تو یہ مضمون مکمل ہو جاتا ہے کیونکہ بعض لوگ ایسے بھی دیکھے گئے ہیں جنہیں قلب سلیم بعض دفعہ کچھ مدت کے بعد نصیب ہوا کرتا ہے بعض لوگ اپنی عمر، بعض دفعہ ایک لمبا حصہ ضائع کر چکے ہوتے ہیں تو پھر ان کو قلب سلیم عطا ہوتا ہے۔اس عرصہ میں زبان بعض دفعہ مبالغہ بعض دفعہ غلط بیانی کی ایسی عادی ہو چکی ہوتی ہے کہ ارادہ نہ بھی ہو تو زبان ٹھوکر کھاتی رہتی ہے۔یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی حفاظت کرنے والی ہیں۔قلب سلیم ایسا ہو کہ زبان بھی اس سے مطابقت کرے، ایک لفظ بھی ایسا نہ ہو جو قلب سلیم کے تقاضے پورے کرنے والا نہ ہو یعنی غلطی سے بھی زبان سے کوئی غلط بات نہ نکلے۔یہ دعا ہے جو ایک نہایت ہی کامل دعا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ سب کے لئے عربی میں اسے یاد کرنا مشکل ہے مگر اس کے مضمون کو میں دوہراتا ہوں اس کو ذہن نشین کرلیں اور جس حد تک توفیق ملے اب رمضان بھی آنے والا ہے اس میں اپنے لئے اور ساری جماعت کے لئے یہ دعا مانگا کریں۔”اے اللہ ! میں امور دینیہ میں جو تو نے حکم فرمائے ہیں ان میں ثبات قدم کی توفیق مانگتا ہوں ، ایسا قائم ہو جاؤں کہ کبھی میرے قدم متزلزل نہ ہوں۔وہ امور دینیہ جو تو نے بیان فرمائے ہیں شریعت کے، کر اور نہ کر وغیرہ وغیرہ سب اس میں شامل ہیں ان میں میں ثبات قدم کی توفیق مانگتا ہوں اور ہدایت کی ہر بات پر قائم رہنے کا عزم صمیم مانگتا ہوں۔مجھے عزم عطا فرما کہ جو بھی ہدایت کی بات مجھے ملے میں اس پہ ضرور قائم ہو جاؤں اور پھر قائم رہوں۔پھر تیری نعمتوں کے شکر اور نہایت خوبصورت اور حسین رنگ میں تیری عبادت کی توفیق یہ بھی عطا فرما اور قلب سلیم دے اور سچی زبان دے۔“