خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 834 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 834

خطبات طاہر جلد 17 834 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء اور تیرے ہی لئے شکر ہے فَقَدْ أَذَى شُكْرَ لَيْلَتِهِ - اب لیلۃ کا شکر ادا کرنا، اس رات کا شکر ادا کرنا تہجد کو چاہتا ہے، نمازوں کو چاہتا ہے، خدا کے حضور کھڑے ہونے کو چاہتا ہے ورنہ اس کی یہ بات ہی جھوٹی نکلے گی۔کہ تو رہا ہے کہ اے خدا ! میں رات کرنے لگاہوں اور جانتے ہوئے کہ اس ساری رات میں مجھے تیرا شکر اور حمد کرنی ہے کیونکہ جو کچھ بھی رات کو تو مجھے عطا کرتا ہے وہ باعث شکر ہے اور باعث حد ہے اور آنحضرت صلی ایام کے تعلق میں رات کو جو رسول اللہ صلی نیا کی تم سے وعدے دئے گئے اور جو ادا کیا گیا وہ مقام محمود ہے۔ایسا مقام جو ہمیشہ تعریف کیا جائے گا اور تعریف کے قابل رہے گا جس مقام پہ بھی رسول اللہ صلی ا ہی ہم ترقی کر جائیں وہ محمود ہی رہے گا۔کوئی ایسا مقام نہیں آئے گا جس میں بندوں کی تعریف کی ضرورت ہو۔جب اللہ ہر مقام کی تعریف کر رہا ہے تو انسان بندوں سے بالاتر ہوتا چلا جاتا ہے اور جتنا بھی اونچا جائے گا وہ مقام محمود ہی ہو گا۔یہ وہ مقام محمود تھا جس کا آنحضرت سلایا کہ ہستم شکر ادا کیا کرتے تھے۔اتنا اس احساس سے آپ ملی تا کہ ہم کا دل جھک جایا کرتا تھا کہ بعض دفعہ ساری ساری رات شکر ادا کرتے گزر جاتی اور حمد کے گیت گاتے ہوئے۔اب ایسا مومن جو رسول اللہ صلی سیستم کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح جس حد تک اس کو توفیق ہے رات کو اٹھ کر شکر الہی کرے اور اس کا ذکر کرے۔اس کو ساری دُنیا کا کوئی غم چاٹ کیسے سکتا ہے۔ناممکن ہے۔تو یہ وہ مومن ہیں جن کے متعلق آنحضرت سی لیا کہ تم نے فرمایا کہ مومن کی تو موجیں ہی موجیں ہیں ، خیر ہی خیر ہے، جو بھی وہ کرے گا اس کی بھلائی اسی میں ہوگی۔پس جماعت احمد یہ عالمگیر کو اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے ہمارے لئے طرح طرح کی آزمائشیں بھی ہیں اور بعض دفعہ وہ آزمائشیں لوگوں کے دلوں پر بڑی بھاری گزرتی ہیں اور بلا اٹھتے ہیں خواہ مخواہ۔اب مثلاً ربوہ کا نام بدلنے کا واقعہ آپ کے سامنے آیا ہے۔میرے دل میں ذرا بھی اضطراب نہیں ہوا۔وہ گھبرا گھبرا کے جو مجھے وہاں سے لوگ لکھتے ہیں ہمارے بزرگ، ذمہ دارا فرا داور بڑے بڑے وکلاء وغیرہ کہ اب کیا کریں، اب کیا ہو جائے گا۔میں حیران ہوتا ہوں کہ ان کو ہوا کیا ہے۔جب انہوں نے آپ کا اپنا نام بدلا دیا تھا تو کیا ہو گیا تھا؟ اس سے زیادہ کسی اور نام کی تبدیلی میں کیا اہمیت ہے۔آپ کو تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کے دلوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔یہ کوشش کہ نام بدلا کے دل کی آگ ٹھنڈا کریں، یہ کوشش ظاہر کر رہی ہے کہ بھڑ کن کم نہیں ہو رہی جو مرضی