خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 833
خطبات طاہر جلد 17 833 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْكَ “ وہ اپنے سرمائے پر غور کرتا ہے سارا دن جو اس نے سفر کرنا ہے کوئی زادراہ بھی تو چاہئے ۔ وہ کہتا ہے اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَة : جو نعمت بھی مجھے عطا ہوئی ہے جس نعمت کے ساتھ میں صبح کر رہا ہوں فمنك وہ تیری طرف سے ہے۔ وحدك : اور کسی کی طرف سے نہیں ۔ لا شريك لك: تیرا کوئی شریک نہیں ۔ فَلَكَ الْحَمْدُ، وَلَكَ الشكر : پس کامل حمد اور سچی حمد سب تعریف تیرے ہی لئے ہے۔ وَلَكَ الشكر : اور شکر بھی تیرے ہی لئے ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے ۔ فرمایا: فَقَدْ أَدَّى شُكُرَ يَوْمِهِ جب وہ کہتا ہے تو وہ دن جو چڑھا ہے جو اس کے سامنے پڑا ہوا ہے اس سارے دن کے شکر کا حق ادا کر دیا۔ 66 وہ یہ سوچتے ہوئے جب آگے بڑھتا ہے تو اس دن جو کچھ بھی اس کو نصیب ہو گا وہ شکر اور حمد ہی میں تو گزرے گا۔ کوئی ایسا ابتلا اس کو پیش آ ہی نہیں سکتا جس پہ شکر اور حمد سے اس کا ہاتھ الگ ہو جائے۔ شکر وحمد کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ جائے یہ نہیں ہو سکتا۔ تو دراصل پہلی ہی حدیث جو پہلے پڑھ کے سنائی گئی تھی اسی کے مفہوم کو ایک اور بیان سے واضح فرمایا جا رہا ہے اور یہ باتیں ہیں جو ایسی عارف باللہ کی باتیں ہیں جس کو کوئی جھوٹا را وی گھڑ سکتا ہی نہیں ورنہ جو پہلی بات میں نے کہی تھی اسی لئے کہی تھی کہ آپ کو سمجھ آجائے کہ عام انسان جو بنانے والا ہے وہ صبح کے وقت یہی کہے گا کہ میں نے رات کا شکر ادا کر دیا ہے رسول اللہ صلی السلام نے یہ نہیں فرمایا۔ آپ صلی ایم نے فرما یا آنے والے دن کا شکر ادا کر رہا ہے۔ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكُرَ لَيْلَتِهِ ۔ (سنن أبی داؤد، کتاب الادب، باب ما يقول أذا اصبح ، حدیث نمبر : 5073) اور جو شخص بھی اسی قسم کی بات کہے اس وقت جب وہ شام کر رہا ہو ، جب دن گزر جائے اور رات سامنے پڑی ہو اس وقت وہ یہی باتیں اپنی آنے والی رات کے متعلق کہے ۔ وہ کہے اے اللہ ! میں رات کر رہا ہوں تیری نعمت کے ساتھ صرف تیری نعمت کے ساتھ اور کسی نعمت کے ساتھ میں رات نہیں کر رہا ۔ لا شريك لك : تیرا کوئی شریک نہیں ۔ فَلَكَ الْحَمْدُ : تمام محمد تیرے لئے ہے وَلَكَ الشكر :