خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 832
خطبات طاہر جلد 17 832 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء 66 ہوں وہاں کسی تردد کی ضرورت نہیں۔اگر راوی جھوٹا بھی ہو ، فرض کریں وہ حدیث نہ بھی ہو ، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ نہ ہومگر فرض کریں نہ بھی ہو، مضمون اچھا ہے تو پھر تکلیف کیا ہے، نقصان کیا ہے ہمیں۔کسی کی طرفداری مقصود نہیں ہے مضمون ایسا ہے جس میں اللہ سے ملنے کی باتیں ہیں تو الحِكْمَةُ ضَالَّهُ الْمُؤْمِنِ “ (سنن الترمذي ، كتاب العلم عن رسول الله ،باب ماجاء في فضل الفقه۔۔،حدیث نمبر : 2687) یہ حکمت کی بات جہاں سے ملے گی اس کو اخذ کر لیں تو پھر رسول اللہ صلی لہ الیتیم سے کیوں نہ لیں۔غیر اللہ کے پاس کیوں جائیں۔رسول اللہ صلی یتیم کے منہ کی باتیں مان جائیں کہ آپ صلی لا کہ ہم ہی نے فرمائی ہونگی اور یہی حکمت کی بات ہے جسے آپ جہاں بھی ملے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔پس اس ضمنی بیان کے بعد میں حدیث کے الفاظ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت عبداللہ بن غنام البیاضی بیان کرتے ہیں آنحضرت صلی ہی تم نے فرمایا: "جو شخص صبح کے وقت یہ کہے کہ اے اللہ ! جو نعمتیں مجھے صبح کے وقت حاصل ہیں یہ محض تیری ہی طرف سے ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ جو صبح کے وقت حاصل ہیں“ کا ترجمہ شاید پوری طرح بات کو واضح نہیں کرتا میں عربی الفاظ آپ کے سامنے پڑھتا ہوں۔مَنْ قَالَ حِينَ يُصبح جس وقت انسان صبح کر رہا ہو۔“ یعنی رات کے بعد جب باشعور طور پر صبح اٹھ کر سوچتا ہے اور جانتا ہے کہ رات کو خدا تعالیٰ نے مجھے ایک عارضی موت میں سے گزارا ہے مگر دوبارہ زندگی دی جب یہ سوچتے ہوئے اٹھتا ہے تو پچھلی رات کا شکر ادا کر رہا ہے۔بظاہر یہی ہے نا کہ پچھلی رات کا شکر کر رہا ہے آنے والے دن کا شکر ادا نہیں کر رہا لیکن حضرت رسول اللہ صلی الہ السلام فرماتے ہیں اس نے دن کا شکر ادا کیا۔اس لئے یہ ایک ایسا پہلو ہے جسے اصل الفاظ پر غور کر کے آپ کو سمجھ آئے گی یعنی ظاہری طور پر تو انسان یہی سمجھتا ہے صبح اٹھ کر اس نے شکر کیا کہ اچھا میں جاگ گیا، رات مر نہیں گیا تو یہ رات کا شکر ہے نا مگر رسول اللہ صلی یم فرمار ہے ہیں کہ ایسا شخص جو اس حال میں صبح کرتا ہے وہ آنے والے دن کا ، وہ دن جو چڑھ گیا ہے اس کا گویا پیشگی شکر ادا کر رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب پیشگی شکر ادا کرے گا تو سارا دن اس شکر کا حق ادا کرے گا۔الفاظ اب یہ ہیں: