خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 831 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 831

خطبات طاہر جلد 17 831 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء اسْتَعِينُوا صبر سے پہلے ہے۔پیشتر اس کے کہ انسان پر کچھ ابتلا آئیں خواہ وہ انفرادی ہوں یا جماعتی ہوں انسان کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ استدعا کرتا چلا جائے کہ اے اللہ ! جب بھی آزمائش ہو ہمیں صبر ضرور دینا اور یہ صبر صلوۃ کے بغیر حقیقت میں پوری طرح ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ صبر کے ساتھ صلوۃ اس صبر کو تقویت دینے والی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ جب کوئی گہرا غم پڑا تو فورا میں عبادت کے لئے کھڑا ہو گیا۔یہ وہی مضمون ہے کیونکہ سچا صبر عبادت کے ذریعہ نصیب ہو سکتا ہے۔عبادت میں انسان اللہ کے قریب آجاتا ہے اور جتنا اللہ سے قریب آجائے دُنیا کی بے ثباتی اس پر ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے۔نماز میں انسان محسوس کرتا ہے کہ میرا اعلیٰ مقصد تو پیدائش کا یہی تھا کہ میں اللہ کے پاس رہوں ، اس کی دی ہوئی چیزیں اگر ہاتھ سے چلی گئیں تو اسی سے میں صبر مانگتا ہوں ،اسی سے استعانت طلب کرتا ہوں۔پس اس پہلو سے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة کا مضمون ہے جو آنحضرت صلی یا تم نے اس حدیث میں اس کا ذکر کئے بغیر بیان فرما دیا ہے لیکن مضمون سے ظاہر ہے کہ مومن کو کسی طرح کا بھی شر نہیں پہنچتا ، خیر ہی خیر ہے جو کچھ اس پر گزر جائے ہر حال میں اس پر خیر ہے اور کافر پر جو بھی گزر جائے ہر حال میں اس کا نقصان ہے۔مل جائے تو تب نقصان ، نہ ملے تو تب نقصان ، ایک مستقل جہنم میں وہ زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے۔ایک اور حدیث اسی تعلق میں یعنی شکر کے مفہوم کو زیادہ واضح کرنے کی خاطر اختیار کی ہے۔سنن ابی داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ۔یاد رکھیں کہ احادیث میں جو اس قسم کی احادیث ہیں جن میں عرفان باری تعالیٰ کا ذکر ہے ان احادیث میں راوی کمزور بھی ہوں تو نیچے ہوتے ہیں کیونکہ کمزور راوی ایسی اعلیٰ عارفانہ احادیث بنا ہی نہیں سکتا۔اپنے مطلب کی حدیثیں، اپنے عقائد کی تائید میں احادیث تو کثرت کے ساتھ مختلف فرقوں نے گھڑ رکھی ہیں یا گھڑی نہیں تو ان کے معنی اپنی مرضی کے کرتے ہیں اور انہیں مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں مگر جو عرفان باللہ کی باتیں ہیں یہ احادیث جھوٹے راوی بیان نہیں کر سکتے اس لئے بہت زیادہ اِس میں اُس تر ڈر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔میں ہمیشہ چھان بین اس وقت کیا کرتا ہوں جہاں مضمون کسی کے مطلب کا ہو اور خطرہ ہو کہ اس نے اپنے مطلب کی خاطر حدیث کو اختیار کیا ہے یا حدیث وضع کر لی ہے لیکن جہاں عرفان باللہ کی باتیں