خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 830
خطبات طاہر جلد 17 830 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء شروع کر دیں تو خدا نے جو آپ پر اعتماد کیا تھا اس کو ٹھکرادیا، اس کورڈ کر دیا۔ تو یہ ناکامی ہے جو مومن کے حصہ میں نہیں آتی ۔ آنحضرت صلی ال کلیم اس مضمون کو بیان فرما رہے ہیں کہ یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی کہ اس کا ابتلا بھی اس کے لئے خیر ہو جائے ۔ ” جب اسے آزمائش پہنچتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ شکر اس کے لئے خیر کا موجب بن جاتا ہے اور اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ صبر اس کے لئے اچھا ہو جاتا ہے۔“ 66 (صحیح مسلم، کتاب الزهد والرقائق، باب المؤمن امره كله خير ،حدیث نمبر :7500) ہے اب یہ جو شکر کا پہلا معنی تھا اس پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ آزمائش میں کامیابی پر تو شکر ہونا ہی ۔ مگر آزمائش ایسی ہو جائے کہ ایک مستقل روگ دل میں لگ جائے مثلاً بعض ماؤں کے نوجوان بیٹے گزر جاتے ہیں ، بعض ماں باپ کے اکلوتے بیٹے نکل جاتے ہیں ہاتھ سے ، کئی قسم کے حادثات در پیش ہوتے ہیں۔ ان پر پہلے معنوں میں شکر کرنا بہت مشکل کام ہے۔ کبھی آپ کسی ایسے ماں باپ کو نہیں دیکھیں گے الحمد للہ اللہ نے ہمیں اس آزمائش کے قابل سمجھا ۔ یہ اگر کوئی کہے تو جھوٹ ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں دکھائی نہیں دے سکتے ، مومن بھی ہوں تو نہیں دکھائی دیتے مگر اس مضمون پر رسول اللہ صلی الاسلام نے شکر کے ساتھ صبر کا پلو باندھ دیا ہے مومن شاکر بھی ہے اس لئے وہ آزمائشیں جن میں اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب کرتا رہتا ہے اس پر وہ شکر ادا کرتا ہے چھلانگیں مارتا ہے لیکن جن آزمائشوں کی تلخی اس کی طاقت سے بڑھی ہوئی معلوم ہوتی ہے ان میں وہ صبر کرتا ہے اور صبر میں ایک قسم کی طمانیت و ثبات داخل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا نے مجھ پر یہ آزمائش ڈالی تھی اور مجھ سے یہ توقع ہے کہ میں اُس کی رضا کی خاطر اسے برداشت کرلوں اور جب وہ صبر کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں دعا بھی لازم ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ صبر جس کا ذکر رسول اللہ لا الہ الاسلام مومن کے حوالے سے کر رہے ہیں وہ بغیر دعا کے نصیب ہو سکے ۔ چنانچہ قرآن کریم نے اسی مضمون کو وَاسْتَعِينُوا بالصَّبْرِ وَ الصَّلوة (البقرة:46) کہہ کر بیان فرمایا ہے۔ صبر خدا سے مانگے بغیر نصیب ہو ہی نہیں سکتا۔ کہنے میں تو ہو جاتا ہے مگر کرنے میں بہت مشکل ہے ۔ وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ ۔ پس ان آزمائشوں کو مد نظر رکھتے ہو ۔ ہوئے اس دنیا میں ہی ان کے لئے آزمائشوں ۔ سے پہلے تیاری نہ تیاری شروع کردو۔