خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 819 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 819

خطبات طاہر جلد 17 819 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء تبتل الی اللہ سے مراد کارخانہ قدرت سے مستغنی ہونا نہیں ہے سچا صبر عبادت ہی کے ذریعہ سے نصیب ہو سکتا ہے (خطبہ جمعہ فرموده 27 نومبر 1998ء بمقام بيت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت تلاوت کی۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمُ ايَّاهُ تَعْبُدُونَ پھر فرمایا: (البقرة: 173) يسورۃ البقرۃ آیت 173 ہے جس کی میں نے تلاوت کی ہے۔اس کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو۔كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُم : جو اللہ نے تمہیں رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے طیبات کھایا کرو۔وَاشْكُرُوالله : اور اللہ کا شکر ادا کرو۔إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ : اگر واقع تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔یہاں گلُوا مِنْ طَيِّبتِ مَا رَزَقْنَكُمْ کے دو ایسے واضح معانی ہیں جو پیش نظر رہنے ضروری ہیں۔اول یہ کہ جو بھی اللہ تعالیٰ نے رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے بہترین کھایا کرو۔رزق میں ہر قسم کے رزق شامل ہیں، اور اچھا بھی ، اور اور بھی اچھا، اس سے بھی اچھا۔تو یہ بات یہاں بہترین کے معنوں میں ہے جو پاکیزہ ہو ، جو تازہ ہو، جس میں سے خوشبو آ رہی ہو ،صحت کے لئے مفید ہو۔یہ ساری باتیں لفظ طیبت کے تابع ادا ہوتی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے ہر قسم کا رزق کھانے کی بجائے مومن کی شان یہ ہے کہ اس میں سے بہترین حصہ کھائے۔