خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 815
خطبات طاہر جلد 17 815 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء کرتا تھا، شروع میں وقت نکال لیا کرتا تھا آخر پر پھر بالکل ممکن نہیں رہا تو لوگ تو شام کو سیروں پر چلے جایا کرتے تھے، ادھر اُدھر کھیلوں میں مصروف ہو جایا کرتے تھے اور میں وہاں دفتر میں مریضوں کا انتظار کیا کرتا تھا اور آتے بھی بہت کثرت سے تھے اور اس لئے میں نے اپنی کھیلوں کا وقت عشاء کے بعد رکھ لیا تھا۔چنانچہ خدام الاحمدیہ کا ہال ساتھ ہی تھا وہاں بیڈ منٹن وغیرہ کھیلنے کے لئے میں عشاء کی نماز کے بعد جایا کرتا تھا حالانکہ لوگ تو شام کے وقت کھیلیں کھیلتے ہیں اور بعض دفعہ چونکہ مجھے بعد میں ضرورت پڑتی تھی احمد نگر جانے کی بھی اپنے کام دیکھنے کے لئے تو مریضوں کو بہر حال میں کچھ نہ کچھ وقت ایسا ضرور دے دیا کرتا تھا مثلاً جب میں احمد نگر با قاعدگی سے جاتا رہا تو مغرب کے معا بعد اپنے گھر میں مریضوں کا مجمع لگا لیا کرتا تھا لیکن ایک ادنیٰ بھی شوق نہیں تھا کہ مریض میرے گردا کٹھے ہوں۔ایک خدا نے دل میں جذبہ پیدا کیا تھا کہ غریب لوگ باہر سے علاج نہیں کروا سکتے ، ہسپتالوں یا ڈاکٹر کے پاس جانا ان کے لئے مشکل ہے اس لئے وہ بے تکلفی سے آجایا کریں۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کی نگرانی کی جاتی ہے جو میں سمجھتا ہوں ابھی بھی جاری ہے۔آپ سب لوگوں کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اگر خدا کی خاطر یا بنی نوع انسان کی خاطر کام کر رہے ہیں تو وہاں جمگھٹا کا لطف نہ اٹھائیں جمگھٹوں کی تکلیف کے باوجود یہ کام کرتے چلے جائیں۔آج بھی بہت سارے احمدی ہو میو پیتھ تیار ہو گئے ہیں جن کے ارد گرد بے شمار لوگ اکٹھے ہونے لگ گئے ہیں ماشاء اللہ اور خدا تعالیٰ نے ان کو ملکہ بھی بہت بڑا بخشا ہے۔بہت ہیں مگر میں اُمید رکھتا ہوں کہ ان کا بھی یہی حال ہوگا۔وہ چاہتے تو ہیں زیادہ سے زیادہ خدمت کریں مگر لوگوں کے اکٹھا ہونے سے کوفت بھی ہوتی ہے، گھر جانا پڑتا ہے۔آخر کبھی کسی نے گھر جانا تو ہوتا ہے ان کی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے تو جتنی دیر وہ بنی نوع انسان کی خدمت میں رہتا ہے اپنے بعض آراموں سے اس کو قطع تعلق کرنا پڑتا ہے اور یہ قطع تعلق بھی تبتل ہی کا ایک دوسرا نام ہے۔اس کو آپ اچھی طرح سمجھ لیں کہ تبتل الی اللہ کا ایک یہ بھی معنی ہے۔بعض لوگ اپنے خاندان سے، اپنے عزیز و اقرباء سے اس لئے جدا رہتے ہیں کہ ان کو باہر کی مجلسوں میں لطف آتا ہے اور ایسے بہت سے ہیں اڈے لگانے والے جن کے بیوی بچے ہمیشہ شا کی رہتے ہیں۔بعض لوگ روتے ہوئے مجھے بھی خط لکھتے ہیں کہ ہمارے فلاں کو تو عادت ہے کہ باہر چلا جائے اور لوگ اس کے گردا کٹھے ہوں یا وہ لوگوں کے گرد اکٹھا ہو جائے اور