خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 814 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 814

خطبات طاہر جلد 17 814 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء جماعت کو حاصل نہیں ہے کہ اللہ اوپر سے نگرانی کر رہا ہے، دیکھ رہا ہے۔کسی کو غلط رستے سے اوپر نہیں آنے دے گا کیونکہ اگر غلط رستوں سے اوپر آ گیا تو ساری جماعت کو نقصان پہنچے گا۔تو بہت ہی عظیم الشان اللہ کا احسان ہے، اتنا بڑا فضل ہے کہ اس کو کبھی جماعت کو بھلا نا نہیں چاہئے۔ہم میں فتور ہوں گے ہماری نیتیں بھی خراب ہو سکتی ہیں مگر ایک دیکھنے والے کی نظر سے باہر نہیں رہیں گے۔وہ بصیر ہے ، وہ دلوں کے گہرے رازوں کو سمجھتا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ اس جماعت میں کون سے لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں اور بالآخر ان کو کسی وقت تھوڑی دیر چڑھ لینے کے بعد پھر نیچے پھینک دیتا ہے اور دُنیا حیران رہ جاتی ہے کہ ایک شخص نے اتنی ترقی کی اتنا قریب ہو گیا پھر اتار کے خدا نے نیچے پھینک دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی ایسے لوگ تھے جنہوں نے قرب میں بڑی ترقی کی یعنی اس حد تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حسن ظن کرتے ہوئے ان کے متعلق بہت کچھ تعریفی کلمات لکھے اور بہت ان کو خطوط لکھے اور وہ خطوط پڑھ کے یوں لگتا ہے جیسے یہ شخص تو بہت پہنچا ہوا، بہت بزرگ اور بلند انسان ہے لیکن ایسا انجام ہوا کہ وہ مرتے وقت احمدی نہ رہے بلکہ بعض ان میں سے مخالف ہو گئے۔یہ اس لئے کہ خدا نگران ہے جیسا کہ اس وقت وہ نگران تھا ویسے اب بھی نگران ہے اور ان اونچے ہوئے لوگوں کو جب آپ گرتا ہواد یکھتے ہیں تو بالکل تعجب نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو گراتا ہے تا کہ غلط مقامات پر وہ لوگ نہ پہنچیں جنہوں نے جماعت کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول " کا سیر کا دستور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کے لئے ساتھ لے جاتے تھے تو جایا کرتے تھے۔اور ہر ایک کا اپنا اپنا رنگ ہے بعض لوگ دوڑا کرتے تھے ساتھ کہ سیر کے لئے چلے جائیں مگر حضرت خلیفہ اسیح الاول کا ایک الگ مزاج تھا اپنا درویشانہ، وہ یہ بھی پسند نہیں کرتے تھے کہ سیر میں جائیں تو لوگوں کی آپ کی طرف توجہ ہو کیونکہ بہت سے ہوسکتا ہے ایسے مریض ہوں یا ضرورت مند ہوں جو اس موقع سے فائدہ اٹھا کے آپ سے پوچھنے لگ جائیں۔ایک ادنی سی خواہش نہیں تھی کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی موجودگی میں آپ توجہ کا مرکز بنیں۔اب میں سوچتا ہوں کہ وقف جدید کے زمانے میں، میں نے بھی بڑی بڑی لمبی مجلسیں لگائی ہیں، بعض دفعہ صبح سے لے کر رات تک میں مریضوں کا انتظار کرتا تھا کیونکہ دفتر کے وقت میں وقت نہیں ملا