خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 813
خطبات طاہر جلد 17 813 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء یہیں کھڑا ہو جا تا ہوں لیکن یہ تو اللہ کوعلم ہے۔اگر نیت میں یہ فتور ہو کہ اس کو مزہ آ رہا ہو اس بات میں کہ جمگھٹا لگ رہا ہے تو یہ پھر خطر ناک بات ہے۔ورنہ مزہ نہ ہو بلکہ تکلیف کے باوجود انسان لگائے ان دو چیزوں میں بھی فرق ہے۔یہ تقویٰ کی باریک راہیں ہیں جو میں آپ پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں ورنہ کئی دفعہ آپ یہ بھی دیکھتے ہونگے کوئی دوست کھڑے ہیں ہوسکتا ہے وہ اس نیت سے کھڑے ہوں کہ یہ میرے ملنے والے مجھے کہاں ڈھونڈیں گے اب اگر چہ مجھے جلدی ہے واپس جانے کی مگر میں مشکل برداشت کرتے ہوئے ان کی خاطر یہاں کھڑا ہو جاتا ہوں۔اب یہ بات تو سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا مگر ایسے احباب کو کھڑا ہونے سے لوگوں کے اکٹھا ہونے سے مزہ نہیں آتا۔اب یہ بات بھی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔وہ مزہ نہیں لے رہے ہوتے وہ تکلیف محسوس کر رہے ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد ان کو چھٹی ملے تو واپس آئیں اور بعض دفعہ سو کام ہوتے ہیں کسی شخص سے وہ اتفاق سے قابو آ جائے تو لوگ گھیر لیا کرتے ہیں۔اب ہمارے ہاں بھی جو مہمان ٹھہرتے ہیں بعض باہر سے آنے والے مثلاً ڈاکٹر حامد اللہ آیا کرتے ہیں کئی دفعہ تو میں ہمیشہ ان کو کہا کرتا ہوں آپ کہاں غائب ہو جاتے ہیں کہ ہم کھانے پہ انتظار کرتے رہتے ہیں اور آپ واپس آنے کا نام ہی نہیں لیتے تو وہ مسکرا کر جیسا کہ ان کی عادت ہے کہا کرتے ہیں کہ قضاء کا معاملہ میرے سپرد ہے فلاں معاملہ میرے سپرد ہے لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ اب مجھ سے جو کچھ کروانا ہے کروالیں تو اس نیت سے کھڑے ہوتے ہیں لیکن دل او پر اٹکا ہوتا ہے کہ جلد فارغ ہوں تو میں اوپر جاؤں۔پس یہ باتیں تو اللہ کے سوا کوئی جان ہی نہیں سکتا کہ کسی نے کیوں جمگھٹا لگوایا ہے۔اگر رضائے باری تعالیٰ کی خاطر کوئی کھڑا ہوا ہے، بنی نوع انسان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی خاطر کھڑا ہوا ہے، ان کے کام کرنے کی خاطر کھڑا ہوا ہے تو اس کو اس مجمع سے لطف نہیں آئے گا۔خدمت کا لطف ایک الگ چیز ہے مگر جتنا بڑا مجمع دیکھے گا اس کو اور گھبراہٹ ہوگی کہ لوجی میں تو پھنس گیا اب مجھے نکلنے میں اور دیر لگ جائے گی تو یہ چیزیں بہت باریک ہیں اس لئے آپ بیرونی طور پر دیکھ کے فتویٰ نہیں لگا سکتے اللہ بہتر جانتا ہے۔اور اگر نیت میں یہ فتور ہو کہ میں بڑا بن جاؤں تو اللہ اس بات کو پورا نہیں ہونے دے گا یہ قطعی بات ہے۔نہ پہلے کبھی اس نے پورا ہونے دیا نہ آئندہ کبھی پورا ہونے دے گا۔اور جماعت کو جو یہ تحفظ حاصل ہے یہ دُنیا میں کسی اور