خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 812
خطبات طاہر جلد 17 812 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء چاہئے اور لوگوں کے جمگھٹے سے طبعاً طبیعت کو گھبرانا چاہئے۔اب یہ باتیں اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔میں جب اپنی بات بیان کرنے لگا ہوں تو یہ محض اس بات کو مزید کھولنے کیلئے مجھے یاد ہے ربوہ میں ہمیشہ جب بھی حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کا خطبہ ہوا کرتا تھا تو میری کوشش ہوتی تھی کہ کسی ایسی جگہ کونے میں بیٹھوں ، دیوار کے ساتھ ، کہ نماز ختم ہوتے ہی میں نکل سکوں اور سنتیں گھر میں ادا کیا کرتا تھا۔اس کا مجھے یہ فائدہ پہنچا کرتا تھا کہ لوگوں کا میری طرف کسی قسم کا بھی خیال نہیں منتقل ہوتا تھا۔کوئی ہجوم نہیں لگا، کوئی لائن نہیں لگی ورنہ جاننے والے جو میری طب سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، دوسری ہاتوں سے بعید نہیں تھا کہ وہ اکٹھے ہو جاتے۔توطبیعت میں ایسی نفرت تھی اس بات سے کہ وہاں خلیفتہ اسیج کی موجودگی میں میری کوئی الگ مجلس لگ رہی ہو کہ میں ہمیشہ نکل جایا کرتا تھا اور جب یہ مشکل ہوتی تھی تو باہر ہمیشہ جو تیوں میں نماز پڑھا کرتا تھا، پاس ہی سائیکل رکھی ہوتی تھی، نماز پڑھتے ہی بہت تیزی سے اپنے گھر واپس چلا جایا کرتا تھا۔وہاں پہنچ کر پھرسنتیں ادا کرنے کی توفیق ملا کرتی تھی۔تو یہ بات کہ باہر کھڑے ہو کر یا کسی مجلس میں اس کے بعد ایک جمگھٹالگایا جائے اور انتظار کیا جائے کہ اب لوگ مصافحہ کر کر کے گزر رہے ہوں یہ مناسب نہیں ہے، یہ ایک ناپسندیدہ حرکت ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ قبول نہیں کیا کرتا اور ایسے لوگوں کو کوئی رتبہ بھی نہیں ملا کرتا۔یہ ایک تقدیر الہی ہے جس سے اگر کسی نے ٹکرانا ہے تو ٹکرا کے دیکھ لے اس کا سر ٹوٹے گا مگر اس تقدیر میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے۔بعض دفعہ آپ دیکھتے ہوں گے جلسوں کے بعد لوگ مجلسیں لگاتے ہیں ارد گرد کھڑے ہوتے ہیں مگر ان میں اور جو میں بات کر رہا ہوں ایک بڑا فرق ہے۔ان مجلسوں میں ہر دوست ایک دوسرے کو دیکھتا ہے اور ہر ایک، ایک دوسرے کا مرکز ہوا کرتا ہے یہ تو منع نہیں ہے۔ہر اجتماع کے بعد خواہ وہ جمعہ ہو یا دنیا کا کوئی اور اجتماع ہو جلسہ جلوس ہو یہ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی یہ عادت ہے کہ اکٹھے ہو کر دوست دوست سے ملتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں پھر ا کٹھے ہو جاتے ہیں وہاں گویا کہ مجمع بعض دفعہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے مگر ایک وجود کے گرد نہیں بڑھتا، وہ ایک دوسرے کے گرد بڑھتا ہے اور یہ بالکل بڑی بات نہیں ہے لیکن ایک شخص ارادۂ کھڑا ہو کہ اب لائنیں لگیں اور لوگوں کی توجہ میری طرف ہو اور میں اپنے آپ کو حاضر کر رہا ہوں یہ جائز نہیں ہے۔ہو سکتا ہے کسی کی نیت نیک ہو اللہ بہتر جانتا ہے، نیت نیک ہو کہ چلو کوئی کہاں ڈھونڈے گا میں