خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 69

خطبات طاہر جلد 17 69 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء کرتا تھا، جو آپ کا ساتھی بن جایا کرتا تھا ، آپ کے دل میں اتر جایا کرتا تھا، اس میں مزید غرق ہونے کو دل چاہتا تھا۔فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ہے، اِلَى الرَّفِيقِ الأَعْلَی نہیں۔میں تو اپنے رفیق میں ڈوب جانا چاہتا ہوں۔یہ وہ کیفیات ہیں جن کو پڑھ کر کم سے کم ایک انسان کے دل میں یہ خیال تو پیدا ہو سکتا ہے کہ میں اس رمضان کے آخری عشرہ میں ویسا ہونے کی کوشش شروع کر دوں۔اس کوشش میں آپ کا کوئی زیاں نہیں ہے۔اس کوشش میں ایک ایسی لذت ہے جو اگر آپ کو نصیب ہوگئی تو یہ لذت آپ کو سنبھال لے گی اور سارا سال اس سے باہر نکلنے کا وہم و گمان بھی دل میں نہیں آئے گا۔آج جو ساری احمدیت کی دُنیا میرا پیغام سن رہی ہے اس کثرت سے دُنیا میں کبھی کسی پیغام کو لوگوں نے اس طرح اکٹھے نہیں سنا۔آج ایک عجیب دن طلوع ہوا ہے۔ساری کائنات میں ایسا دن تصور میں نہیں آسکتا کہ جب اس کثرت سے حضرت محمد رسول اللہ صلی ایم کے پیغامات کو ساری دُنیا ہمہ تن گوش ہو کے سن رہی ہے اور ہر چھوٹا بڑا، ہر طاقتور، ہر کمز ور اس نظارہ میں شامل ہے۔لاکھوں ہیں جن تک یہ آواز پہنچ رہی ہے اور اس احترام سے سن رہے ہیں کہ آج کے رمضان کے احترام کی خاطر وہ اس آواز کو بھی احترام سے سنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ یہ آواز دُنیا کو جگادے گی کیونکہ یہ آواز بظاہر میرے منہ سے نکل رہی ہے مگر فی الحقیقت حضرت اقدس محمد مصطفی سای سایتم کی آواز ہے جو آپ صلی ا ستم ہی کی احادیث کے حوالہ سے میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔اس لئے اس آواز کو عظمت دیں کیونکہ محمد رسول اللہ سی ایم کی آواز تھی جسے میں نے آگے چلایا ہے۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ اس کے بعد آپ لوگ فکر کریں گے۔اس رمضان نے تو گزرنا ہے مگر ایک بات یاد رکھیں کہ آپ کی اور میری ہم سب کی زندگیوں نے بھی گزر جانا ہے۔سب سے بڑی غفلت موت کے دن کو بھلانے سے ہے۔رمضان کو تو آپ وداع کہہ دیں گے مگر یاد رکھیں آپ کی جانیں ، آپ کی روحیں بھی ایک دن آپ کو وداع کہیں گی۔اس وقت ایسے حال میں وداع نہ کہیں کہ حسرت سے آپ ان روحوں کو واپس پکڑنے کی کوشش کریں کہ چلو واپس چلتے ہیں اس دُنیا میں دوبارہ گزارتے ہیں ، نیک کاموں میں صرف کرتے ہیں۔ایسی حالت میں وہ آخری دن آئیں کہ فی الرّفِيقِ الأَعْلَی کی آوازیں بلند ہورہی ہوں۔یہ پیغام ہے جو آنحضرت سلی لا الہلم کا پیغام ہے جو میں آپ تک پہنچارہا ہوں۔اکثر لوگ بھول جاتے ہیں مرنے کو حالانکہ سب سے زیادہ یقینی چیز مرنا ہے۔جتنے ہم ہیں سب کے سب نے