خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 794 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 794

خطبات طاہر جلد 17 794 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء 66 اور وہ ان کو اصلاح خلق کے لئے برگزیدہ کر لیتا ہے۔“ اس انقطاع کے باعث یہ جانتے ہوئے کہ اپنے نفس کی ان کو ادنیٰ بھی حاجت نہیں ہے کسی نفسانی خواہش کی خاطر یہ کچھ بھی نہیں چاہتے ، صرف میرے لئے ہیں جب میرے لئے چاہتے ہیں تو پھر لازماً اللہ جانتا ہے کہ میری مخلوق کا سب سے زیادہ حق یہی ادا کرسکیں گے۔یہ ہے ان کو نبی بنانے کی مصلحت۔وہ ان کو اصلاح خلق کے لئے برگزیدہ کر لیتا ہے۔“ برگزیدہ کا ایک عام مفہوم یہ ہے کہ بزرگ انسان ، وہ بڑا برگزیدہ آدمی ہے مگر یہاں اصلاح خلق کے لئے برگزیدہ بنے رہتے ہیں ان معنوں میں وہ برگزیدہ ہو جاتے ہیں یعنی اصلاح خلق کے دوران یہ بھی تو ممکن ہے کہ رفتہ رفتہ تعلق اللہ سے ٹوٹ کر یا کچھ مدھم ہو کر بنی نوع انسان کی طرف منتقل ہوتار ہے لیکن اللہ جانتا ہے کہ ان کا تعلق مجھ سے بنی نوع انسان کی تربیت کے دوران کم نہیں ہوگا بڑھتا ہی چلا جائے گا کیونکہ وہ جو تکلیف ہورہی ہے ان کو وہ اور زیادہ میری طرف کھینچے گی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ جملے بہت ہی گہرے مضمون کے حامل ہیں۔وو وہ ان کو اصلاح خلق کے لئے برگزیدہ کر لیتا ہے جیسے حاکم چاہتا ہے۔( یعنی کوئی حاکم دنیا کا ) جیسے حاکم چاہتا ہے کہ اسے کارکن آدمی مل جاوے اور جب وہ کسی کا رکن کو پالیتا ہے تو خواہ وہ انکار بھی کر دے مگر وہ اُسے منتخب کر ہی لیتا ہے۔“ دنیا میں بھی اگر کسی حاکم کو ایسا آدمی مل جائے کہ اس کو عہدہ سے کوئی لگن نہ ہو اور عہدہ سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہو تو اس کو پکڑے گا کہ تو ہی تو مجھے چاہئے اس لئے اب میں تمہیں جانے نہیں دوں گا، تمہیں مجبور کروں گا کہ تم یہ عہدہ سنبھالو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو مامور کرتا ہے وہ ان کے تعلقات صافیہ اور صدق وصفا کی وجہ سے انہیں اس قابل پاتا ہے کہ انہیں اپنی رسالت کا منصب سپر دکرے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ انبیاء پر ایک قسم کا جبر کیا جاتا ہے۔(اب اللہ جبر بھی کرتا ہے تو اپنے پیارے بندوں پر مگر ایک قسم کا جبر جو ہے اس نے اس مضمون کو نرم کر دیا ہے ) انبیاء علیہم السلام پر ایک قسم کا جبر کیا جاتا ہے۔وہ کوٹھریوں میں بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں اور اسی میں لذت پاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی کو ان کے حال پر اطلاع نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ