خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 793
خطبات طاہر جلد 17 793 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء دیکھتے ہیں۔ایسی بات جو ان میں موجود نہ ہو وہ صاف کہیں گے غلط کہہ رہا ہے مجھ میں نہیں ہے کیونکہ بعض لوگ قابل تعریف باتوں میں ایسی باتیں بھی بعض دفعہ بیان کرتے ہیں جو انبیاء کے نزدیک قابل تعریف نہیں اور وہ نہیں ہوتیں ان میں لیکن لوگ کہتے ہیں تو کہتے ہیں غلط ہے، بالکل یہ بات نہیں مگرا اپنی تعریف سے شرما جاتے ہیں اور یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں کہ مخلوق کے سامنے خدا لاتا ہے حالانکہ وہ مخلوق سے شرما رہے ہوتے ہیں اور یہاں شرمانا بدیوں کی وجہ سے نہیں ، نیکیوں کی وجہ سے ہے۔اب دیکھیں کتنا فرق ہے ان دو شرمانے کے انداز میں۔ایک شخص کو اگر وہ بدیوں سے پر ہو اور اسے باہر ننگا کیا جائے دیکھیں کتنا شر مائے گا۔انبیاء کا حال بالکل جدا گانہ ہے وہ جب خدا کے حکم پر باہر نکلتے ہیں تو بے حد شرماتے ہیں، کنواری دلہن سے بھی بڑھ کر شرماتے ہیں کہ اب تو میری خوبیاں ظاہر کی جائیں گی مجھے لوگوں کے سامنے ان معنوں میں نگا کیا جائے گا کہ میرے سارے چھپے ہوئے ہنر اور خوبیاں اور حسن یہ ان پر ظاہر کر دئے جائیں گے اور ایسا ہی اللہ کرتا ہے۔اور ایک انقطاع ان میں پایا جاتا ہے۔چونکہ وہ انقطاع تعلقات صافی کو چاہتا ہے اس لئے وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک لذت اور سرور پاتے ہیں۔تعلقاتِ صافی کیا ہوئے ؟ ایسے تعلقات جن پر دُنیا کی نظر ہی نہیں۔انسان جس سے محبت رکھتا ہے اور حقیقی محبت رکھتا ہے اس سے تعلق اور اس سے تنہائی اور خلوت کے دوران ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کوئی اور بھی اسے دیکھ رہا ہو۔صرف وہ ہو، اس کا محبوب ہو بس یہی اس کی زندگی ہو جاتی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو بیان فرما رہے ہیں۔تعلقات صافی کو چاہتا ہے جس میں کسی غیر کی آمیزش نہ ہو۔وو وہ انقطاع تعلقات صافی کو چاہتا ہے اس لئے وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک لذت اور سرور پاتے ہیں لیکن وہی انقطاع اور صفائی قلب اللہ تعالیٰ کی نظر میں ان کو پسندیدہ بنادیتی ہے۔“ اب جتنا وہ زیادہ علیحدگی میں محبت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اللہ کو اتنے ہی پیارے لگتے ہیں۔تو دُنیا سے بے نیاز ، قطع نظر اس کے کہ کوئی ان کے حسن کو جانتا ہے یا نہیں مجھ پر ہی اپنا حسن کھول رہے ہیں اور میری خاطر فدا ہیں میرے ہی لئے وقف ہیں۔چنانچہ یہ انقطاع ان کو اور بھی زیادہ اللہ کی نظر میں پسندیدہ بنا دیتا ہے۔