خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 792 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 792

خطبات طاہر جلد 17 792 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء پس وہ جو بے نیازی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے توکل کے نتیجہ میں عطا ہوتی ہے۔یہ پھر اسی کا ذکر فرمایا ہے کہ جو چاہے دُنیا کہتی پھرے مجھے تو کوئی پرواہ نہیں مگر میرے دل کی وہی حالت ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ایک اور عبارت ملفوظات جلد 4 صفحہ 7 طبع جدید سے لی گئی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں وہ اس بات کے حریص اور آرزو مند نہیں ہوتے کہ لوگ ان کے گرد جمع ہوں اور اس کی تعریفیں کریں۔“ ہرگز ان کو کوئی حرص نہیں ہوتی لوگ جمع ہوں اور تعریفیں ہو رہی ہیں، ایک جمگھٹا بن گیا ہے۔یہ دیکھو یہ بہت بزرگ آدمی ہے، بہت نیک انسان ہے۔وہ دُنیا سے الگ رہنے میں راحت سمجھتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مامور ہونے لگے تو انہوں نے بھی عذر کیا۔“ کہ اللہ مجھ پر قتل بھی ہے، میرا بھائی مجھ سے بولنے میں بہتر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمار ہے ہیں یہ عذر تھا اصل میں۔چاہتے نہیں تھے کہ ان پر ذمہ داری ڈالی جائے ، ان کو دُنیا میں بھیجا جائے تو انہوں نے عذر کیا۔اسی طرح آنحضرت صلی ا تم غار میں رہا کرتے تھے۔وہ اس کو پسند کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ خودان کو باہر نکالتا ہے اور مخلوق کے سامنے لاتا ہے۔ان میں ایک حیا ہوتی ہے۔“ یہ حیا کا مضمون پہلے بھی بیان ہو چکا ہے اس مضمون کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: اور ایک انقطاع ان میں پایا جاتا ہے چونکہ وہ انقطاع تعلقات صافی کو چاہتا ہے اس 66 لئے وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک لذت اور سرور پاتے ہیں۔“ حیا کیسی ہوتی ہے؟ حیا اس بات کی کہ ایسے لوگوں کی جب تعریف کی جائے تو وہ اندر ہی اندر دل میں بے حد شرم محسوس کرتے ہیں خواہ وہ سچی تعریف ہو خواہ جھوٹی۔جھوٹی تعریف کو تو وہ کراہت سے