خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 791
خطبات طاہر جلد 17 791 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء موجود ہے، وہ آگ موجود ہے جو خرمن کو جلا دیا کرتی ہے۔اس لئے دُنیا میں کہیں بھی کوئی ڈیما کریسی نہیں سوائے جماعت احمدیہ کے، جس کو سچی ڈیما کریسی کہتے ہیں۔وہ جماعت احمدیہ کےسوا دُنیا کی کسی جماعت کو نصیب نہیں خواہ وہ سیاسی جماعت ہو خواہ مذہبی جماعت ہو۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اس ڈیما کریسی کا جو جماعت احمدیہ کو اللہ نے عطا فرمائی ہے جو بھی عہدہ کی خواہش کرے گا وہ اس عہدہ کا نا اہل۔اب افغانستان پر نظر ڈال لیں یا پاکستان پر ، دیکھیں عہدوں کی خواہشوں نے لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ساری تباہی پاکستان پر خصوصیت کے ساتھ عہدوں کی خواہش کی وجہ سے ہے اور یہی دوڑ ہے۔ہر شخص چاہتا ہے کہ مجھے کچھ نصیب ہو اور اس دوڑ نے سارے ملک کو گندہ کر رکھا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے جو انبیاء کا سلسلہ چنا ہے اس میں ہم سب کے لئے ہمیشہ کے لئے سبق ہے۔انبیاء کو چننے کے طریق نے ہی دُنیا کی عظیم الشان را ہنمائی فرمائی ہے جو کوئی دُنیا کا فلسفی راہنمائی نہیں کر سکتا تھا ، نہ کر سکا ہے۔آپ کو مبعوث فرما کر باہر نکالا۔یہ عادت اللہ ہے کہ جو کچھ بننے کی آرزو کرتے ہیں وہ محروم رہتے ہیں اور جو چھپنا چاہتے ہیں ان کو باہر نکالتا ہے ) اور سب کچھ بنا دیتا ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ میں بھی تنہائی کی زندگی کو پسند کرتا ہوں۔“ اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر سارے بوجھ ڈال دئے گئے تھے اس وقت بھی آپ کے دل کا عالم یہ تھا کہ سب کے اندر رہتے ہوئے بھی تنہائی کو پسند کر رہے تھے۔66 وہ زمانہ جو مجھ پر گزرا ہے اس کا خیال کر کے مجھے اب بھی لذت آتی ہے۔“ کتنے مزے تھے کہ جب میں اکیلا رہا کرتا تھا۔کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کسی کی ذمہ داری ادا نہیں کرنی تھی۔اب دیکھو کیسا ہجوم خلائق ہو گیا ہے مگر اب سوچتا ہوں پرانی باتیں تو بہت مزہ آتا ہے۔کیسی پیاری زندگی بسر کر رہا تھا۔میں طبعاً خلوت پسند تھا مگر خدا تعالیٰ نے مجھے باہر نکالا اور پھر اس حکم کو میں کیونکر رڈ کر سکتا تھا ؟ میں اس نمود و نمائش کا ہمیشہ دشمن رہا لیکن کیا کروں جب اللہ تعالیٰ نے یہی پسند کیا تو میں اس میں راضی ہوں اور اس کے حکم سے منحرف ہونا بھی پسند نہیں کرسکتا۔اس پر دنیا کے جو جی میں آئے کہے میں اس کی پروا نہیں کرتا۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ : 664 / الحکم جلد 10 نمبر 25 صفحہ : 3 ، مؤرخہ 17 جولائی 1906ء)