خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 790
خطبات طاہر جلد 17 790 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء نبیوں سے بڑھ کر تھا اور جو عناصر ذمہ دار تھے خلوت نشینی کے وہ آنحضرت صلی الہ السلام کی صورت میں بہت زیادہ شدید تھے۔ پس گو تمام نبیوں میں یہ قدر مشترک ہے لیکن آنحضرت صلی لا السلام میں سب سے زیادہ پائی جاتی تھی۔ ہر ایک نبی کی زندگی ایسی ہی تھی۔ آنحضرت صلیا کہ ہم تو دنیا سے پوشیدہ رہنا چاہتے تھے یہی وجہ تھی جو غار حرا میں چھپ کر رہتے اور عبادت کرتے رہتے ۔ ان کو کبھی وہم بھی نہ آتا تھا کہ وہ وہاں سے نکل کر کہیں ۔ يايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا (الاعراف: 159)۔ وہ یہ وہم بھی نہیں کر سکتے اے انسانو! اے وہ تمام انسانو! اے تمام : انو! اے تمام بنی نوع انسان ! إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا میں تم سب کی طرف رسول بنا کے بھیجا گیا ہوں ۔ کوئی ایک انسان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ رسکتے تھے کہ وہ غارِ حرا سے نکلیں کلیں اور ! سارے بنی نوع انسان کو مخاطب ہو کر کہیں، نہیں ، آپ کا منشاء یہی تھا کہ پوشیدہ زندگی بسر کریں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہ چاہا اور آپ کو مبعوث فرما کر باہر نکالا اور یہ عادت اللہ ہے کہ جو کچھ بننے کی آرزو کرتے ہیں وہ محروم رہتے ہیں ۔ 66 اب ایک اور بات بھی پیش نظر رکھ لیں اچھی طرح ۔ جو بننے کی آرزو کرتے ہیں وہ محروم رہتے ہیں ۔اب اس میں گہری حکمت ہے ۔ وہ آرزوان کی نیت کو گندہ کر دیتی ہے اور اپنی بڑائی کی آروز ان کو ان ذمہ داریوں سے غافل کر دیتی ہے جو لوگوں کی خاطر انہوں نے قبول کرنی ہوتی ہیں۔ پس جماعت میں یہی حکمت کا نظام رار نظام رائج ہے۔ دنیا میں اور کوئی ایسی جماعت نہیں جہاں یہ سلسلہ رائج ہو کہ جو شخص بھی اپنے لئے عہدہ کی خواہش کرے اس کو ہمیشہ کے لئے عہدوں سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ جو شخص اپنے عہدہ کے لئے کسی کو کہے کہ مجھے چن لو اور ثابت ہو جائے اس کو آئندہ سے عہدوں کا نا اہل قرار دے دیا جاتا ہے۔ اب یہ بات عجیب سی ہے کیونکہ دنیا کی کسی ڈیما کریسی میں یہ نہیں ہے۔ ہر ڈیما کریسی میں عہدہ کی خواہش اس شخص کے دل سے اٹھتی ہے جو کچھ بنا چاہتا ہے اور جب وہ خواہش کرتا ہے تو پھر پرو پیگنڈے کی بھی اجازت ہے۔ پھر وہ پارٹیاں بنتی ہیں جو پھر اس کو منتخب کرتی ہیں اس کے ہم خیال لوگ اکٹھے کئے جاتے ہیں تو اس کو ڈیما کریسی کہا جاتا ہے مگر اس ڈیما کر کیسی ہی میں برق خرمن