خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 785 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 785

خطبات طاہر جلد 17 785 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء وہی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی تھی۔اس کے بعد بھی بہت سے ملفوظات شائع ہوئے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں شائع نہیں ہوئے تھے مگر ان کو مختلف راویوں کی سچائی تقویت دیتی ہے اور مختلف راویوں کا آپس میں ان امور پر اتفاق کرنا بتا تا ہے کہ وہ اگر چہ الگ الگ ہیں، مختلف جگہوں کے رہنے والے ہیں مگر ملفوظات کے وقت چونکہ وہ بھی حاضر تھے انہوں نے وہی بات بیان کی ہے جو دوسرے راویوں نے بیان کی ہے۔اب ملفوظات کا جو حصہ میں آپ کے سامنے پڑھنے لگا ہوں وہ یہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا 66 اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔“ اب یہ بات تو آپ کو بڑی عجیب سی لگے گی۔اگر ظاہری نظر سے دیکھیں کہ اللہ سے محبت کے نتیجہ میں دُنیا سے نفرت ہو جاتی ہے اور کراہت ہو جاتی ہے۔اللہ سے محبت ہی کے نتیجہ میں دُنیا سے سچی رحمت اور شفقت اور محبت کا سلوک انسان کو عطا ہوتا ہے۔تو یہاں دُنیا دار اور مادہ پرستوں کا ذکر ہے۔وہ جو خدا کو چھوڑ کر مٹی چاٹنے والے لوگ ہیں ان سے کراہت پیدا ہوتی ہے اور وہ کراہت بھی ایک نفرت کا رنگ رکھنے کے باوجود ان لوگوں کو مجبور کر دیا کرتی ہے کہ ان کی اصلاح کے لئے ہر قربانی کریں۔تو اصلاح کے لئے کوشش کرنا اس نفرت کے نتیجہ میں مدھم نہیں پڑتا بلکہ جتنی زیادہ کراہت ہوتی ہے اتنی زیادہ انسان جد و جہد کرتا ہے کہ ان کو اس گندگی سے پاک وصاف کر دے اور اس گند چاٹنے سے ان کو روک دے۔یہ وضاحتیں ضروری ہیں ورنہ عام طور پر جو ہمارے اردو دان بھی ہیں وہ بھی سرسری نظر سے پڑھیں تو ان کو ان باریک باتوں کی غالباً سمجھ نہیں آئے گی لیکن جو زیادہ عالم نہیں ہیں سادہ مزاج احمدی ہیں ان کے لئے تو یہ وضاحتیں ضروری ہیں بہر حال۔بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔آنحضرتمالی سیستم کی بھی یہی حالت تھی۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قد رفتا ہو چکے تھے کہ آپ اس تنہائی میں ہی پوری لذت اور ذوق پاتے تھے اور ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام کا اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گزارتے تھے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی للہ الی یوم کیسے بہادر اور شجاع تھے۔جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو تو پھر