خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 782
خطبات طاہر جلد 17 782 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء مقتل ہی کی ایک سیڑھی ہے اور تقتل ہی کے ذریعہ سے یہ سارے درجے عطا ہوتے ہیں۔ پس اس مضمون سے متعلق میں کچھ احادیث، کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات آج آپ کے سامنے رکھوں گا ۔ الحکم جلد 5 - 10 اکتوبر 1901ء صفحہ 3 پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا ہی کی رضا کو مقدم کرنا تو تبتل ہے۔ اور پھر تبتل اور تو کل تو ام ہیں ۔ مقتل کا راز ہے تو کل اور توکل کی شرط ہے تبتل ۔ یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔ الحکم جلد 5 نمبر 37 صفحہ 3 مؤرخہ 10 اکتوبر 1901ء) تو ام جڑواں کو کہتے ہیں جیسے جڑواں بھائی جو ایک دوسرے کے ہم شکل ہوں یا جڑواں بچے جو کلیہ ایک دوسرے سے مشابہ ہوں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک تبتل اور توکل ہیں ۔ جتنا تبتل دنیا سے کرو گے اتنا ہی لازماً توکل اللہ پر ہونا چاہئے اور جتنا تو کل اللہ پر ہواتنا ہی تبتل کرو گے تو گویا ایک ہی مضمون کے دو نام ہیں تبتل اور توکل ۔ اس سلسلہ میں پہلی حدیث جو میں نے چنی ہے یہ ترمذی کتابُ الْمَنَاقِبِ سے لی گئی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں : أَوَّلُ مَا ابْتُدِى بِهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ أَرَادَ اللَّهُ كَرَامَتَهُ وَرَحْمَةً العِبَادِيهِ أَنْ لَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا جَاءَتْ كَفَلَقِ الصُّبْحِ، فَمَكَتَ عَلَى ذُلِكَ مَا شَاءَ اللهُ أَن يَمْكُكَ، وَحُبَّبَ إِلَيْهِ الخَلْوَةُ فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْلُو 66 (جامع الترمذی، کتاب المناقب عن رسول الله ﷺ ، باب في ذكر الرؤيا الصادقة ۔۔، حدیث نمبر : 3632) اس کا ترجمہ میرے سامنے رکھا گیا ہے وہ چونکہ درست نہیں تھا اس لئے میں نے وہ ترجمہ نہیں پڑھا۔ اس ترجمہ سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا نبوت کے حصول کے بعد خلوت نشینی شروع ہوتی ہے، بالکل برعکس مضمون ہے۔ خلوت نشینی کے نتیجہ میں نبوت ملتی ہے اور پھر یہ خلوت نشینی ٹوٹتی کیوں ہے؟ اس لئے کہ حکما وہ شخص مجبور کر دیا جاتا ہے کہ اب تمہیں باہر نکلنا پڑے گا۔ پس اس کا ترجمہ یوں بنتا ہے۔ أَوَّلُ مَا ابْتُدِى بِهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنَ النُّبُوَّةِ : نبوت کا آغاز جس چیز سے ہوا ہے یہ مراد نہیں ہے کہ