خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 774 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 774

خطبات طاہر جلد 17 774 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء ”اے میرے عزیزو! اے میرے پیارو۔ اسی طرف اشارہ ہے ۔ میرا دوست کون ہے؟ اور میرا عزیز کون ہے؟ وہی جو مجھے پہچانتا ہے۔ اب اس میں بہت گہری حکمت کا راز کھول دیا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام سے محبت اور دین حق کی راہ میں خرچ کرنا اس بات کو لازم کر دیتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچانیں تو سہی ۔ اگر کوئی شخص پہچان جائے کہ یہ ایک اتنی عظیم نعمت ہے جس کی تیرہ صدیاں انتظار کر رہی تھیں اب ہمیں نصیب ہوئی ہے ہم کیوں اس پیارے وقت کو ہاتھ سے ضائع ہونے دیں تو وہ تو ہمہ وقت اسی سوچ میں رہتے ہیں کہ کسی طرح اس وجود سے اور گہرا تعلق رکھیں اور جو تعلق رکھتا ہے وہی ” میرے عزیز و ، میرے پیار کی ذیل میں آیا ہے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : وہ جو مجھے پہچانتا ہے مجھے کون پہچانتا ہے؟ صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں بھیجا گیا ہوں اور مجھے اس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں ۔“ اللہ کی طرف سے آئے ہوئے ہوں ۔ ان کو جو جانتے ہیں کہ اللہ نے بھیجا ہے ان کی بہت آؤ بھگت کرتے ہیں۔ دنیا کے بھیجے ہوؤں کی بھی لوگ کرتے ہیں مگر جو یہ جان لے کہ اللہ کی طرف سے ایک نمائندہ بن کے آیا ہے کس طرح وہ اس پر اپنی جان اور اپنے اموال نچھاور کریں گے یہ تصور بھیے ہوئے کے ساتھ بندھا ہوا تصور ہے ۔ جتنا زیادہ یقین ہو کہ اس وجود کو اللہ نے بھیجا ہے اور ہماری خاطر بھیجا ہے اتنا ہی زیادہ اس سے محبت بڑھے گی اور اتناہی اس کے کہنے پر خرچ کی استطاعت بڑھے گی اور پھر ساتھ یہ بھی فرمایا: دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دُنیا میں سے نہیں ہوں مگر جن کی فطرت کو اُس عالم کا حصہ دیا گیا ہے۔ (یعنی اخروی دنیا کا ) وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔ ( یہ سلسلہ وہ ہے جو جاری رہے گا ) جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں۔“ 66 یہاں درخت وجود کی شاخوں کی تمام تفصیلات بیان ہو گئی ہیں ۔ پیوند کر کے جڑ جانا، جو خون اس کی رگوں میں دوڑ رہا ہے وہ آپ کی رگوں میں دوڑ نے لگے اس کو کہتے ہیں پیوند ۔ پھر فرمایا: