خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 773 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 773

خطبات طاہر جلد 17 773 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء وہ دوڑ ہے جس میں اپنے مال خرچ کرنے کی دوڑ ہے اور جس طرح دوڑوں میں بعض دفعہ یہ ہوا کرتا ہے کہ آگے بڑھنے کے شوق میں لوگ طاقت سے بھی بڑھ جاتے ہیں اس کا پھر بُرا اثر ان کے دلوں پر پڑتا ہے، ان کے عضلات پر پڑتا ہے فوراً ظاہر نہ بھی ہو تو بعد میں ظاہر ہو جاتا ہے۔تو بعض دفعہ روکنا پڑتا ہے اور میرا یہی تجربہ ہے کہ بہت جگہ میرے روکنے پر لوگ رکے ہیں ور نہ اس سے پہلے بے دریغ خرچ کر کے ایک دوسرے سے خرچ کرنے کا اچھا مقابلہ کیا کرتے تھے۔جب یہ تاکید میں نے کی ہے تو امریکہ کے تحریک جدید کے چندوں پر وقتی طور پر برا اثر پڑا لیکن درحقیقت وہ برا اثر نہیں ہے کیونکہ میں نے ان سے کہا تھا کہ طوعی چندوں میں اتنا نہ زیادہ خرچ کریں کہ آپ کے روز مرہ کے چندوں پر بھی اس کا اثر پڑنا شروع ہو جائے اور آپ کی تجارتوں پر اس کا ایسا اکثر پڑے کہ پھر آئندہ نسبتا کم کمائیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے کم ہاتھ میں پائیں۔یہ جب سمجھایا گیا تو بہت سے لوگ جو بے حد خرچ کر رہے تھے انہوں نے نسبتاً توازن اختیار کیا اور اپنے ہاتھ کچھ رو کے لیکن میرے جائزہ کے مطابق ان کے عمومی چندوں میں کمی نہیں آئی لیکن اس تنبیہ کے بعد تحریک جدید کے چندے میں کمی آئی ہے اور امریکہ جیسی جماعت جو بہت آگے تھی انہوں نے محسوس کیا، امیر صاحب کا درددل کا اظہار مجھے پہنچا ہے کہ ہم اس بارے میں مجبور ہیں آپ کی جو ہدایتیں تھیں ان پر عمل کیا ہے اور اب اس میں کچھ کمی دکھائی دے رہی ہے ، شرمندگی ہے۔ان کو میں نے تسلی دلائی اور اب بھی میں تسلی دلا رہا ہوں کہ ہرگز شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔میری ہدایات کے نتیجہ میں اگر وقتی طور پر چندوں میں کمی بھی آئے تو یادرکھیں اس کے بعد وہ بہت بڑی بڑی برکتوں پر منتج ہوگی۔ہمیشہ سے میرا یہی تجربہ ہے وقتی طور پر کچھ کی محسوس ہو بھی تو آئندہ اللہ کے فضل سے وہ کمی بہت زیادہ اضافوں میں تبدیل ہو جایا کرتی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ معاملہ یوں بیان فرمایا: د معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا۔“ کر سکتا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کر نہیں سکتے تھے۔مطلب تھا کروں گا تو تمہیں مشکل پڑ جائے گی اس لئے نہیں کرسکتا، یہ مجبوری ہے۔تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں۔میرا دوست کون ہے؟ اور میرا عزیز کون ہے؟“