خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 772
خطبات طاہر جلد 17 772 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء والے سبقت لے جانے والے ہیں ان میں تو شمار نہیں ہو گا مگر جماعتی نظام کے لحاظ سے عہدے ہر قسم کے اس کو ملیں گے ووٹ دینے کا حق ہو گا نظام جماعت کی دوسری دلچسپیوں میں پوری طرح حصہ لینے کا حق ہو گا ان حقوق سے اسے نہیں روکا جا سکتا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کو جانتے تھے کہ ان سب لازمی چندوں کے علاوہ بھی اگر زائد طور پر میں کچھ طلب کروں تو یہی وہ لوگ ہیں جو اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار رہیں گے، اس لئے فرما رہے ہیں کہ میں تم پر فرض نہیں کرتا۔اب تم اپنے حالات دیکھو اور ہر ایک کے حالات مختلف ہیں ، اپنی توفیق کا جائزہ لو اور اس کے مطابق جتنا دل چاہتا ہے خدا کی راہ میں بڑھ بڑھ کر خرچ کرو۔یہ اب ایسی نیکی ہے جس کا فیصلہ تم نے خود کرنا ہے اور بعینہ یہی طریق تحریک جدید میں اور وقف جدید میں جاری ہے۔پہلے ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کو کہتے تھے بارہ روپے کم سے کم ضرور دو، چھ روپے ضرور دو۔میں نے اس سارے سلسلہ کو ختم کر دیا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان فیصلوں کی روشنی میں کھلی چھٹی دینا زیادہ بابرکت ہے اور جب میں نے منع کیا تھا تحریک جدید وغیرہ کو کہ اب تم نے لا ز مایہ نہیں کہنا کہ چھ سے کم نہیں لینا، چھ ضرور دو یا بارہ ضرور دو یا پچاس ضرور دو بلکہ کھلا چھوڑ دو تو مجھے بعض احتجاجی خطوط ملے ان تنظیموں کی طرف سے کہ اس طرح تو ہمارے چندے کم ہو جا ئیں گے۔میں نے کہا کم نہیں ہونگے ، بہت بڑھ جائیں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو اپنی جماعت پر ایک حسن ظن کی توقع رکھ رہے ہیں یہ ہو نہیں سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہوں اور پھل دینے میں کنجوسی دکھا ئیں۔وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر پھل دیں گی اور بعینہ یہی ہوا ہے۔پچھلی تاریخ جو تحریک جدید کے چندوں کی آپ کے سامنے پیش کی جائے اس پر غور کر کے یہ موازنہ کر کے دیکھیں آپ حیران رہ جائیں گے اس فیصلہ کے بعد ہر اگلا سال پہلے سے زیادہ اموال لے کر جماعت کی خدمت میں حاضر ہوا ہے۔لوگوں نے پہلے سے بڑھ بڑھ کر اموال جماعت پر نچھاور کئے ہیں یہاں تک کہ بعض جگہ مجھے روکنا پڑا کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ اس دوڑ میں اپنی طاقت سے بھی کچھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک دوڑ تو وہ ہے الھكُمُ التَّكَاثُرُ (التكاثر : 2) تمہیں دُنیا کے اموال کی کثرت حاصل کرنے نے غافل کر دیا اپنے مال سے، اپنے انجام سے غافل کر دیا ہے۔ایک