خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 771 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 771

خطبات طاہر جلد 17 771 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء ”اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ کبیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی ، اپنا آرام، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہوا گر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے۔“ یہاں چونکہ سرسبز شاخیں مخاطب ہیں اس لئے وہ ابھی تک یہی رد عمل دکھاتی ہیں۔جب بھی ان کو کوئی تحریک کی جائے وہ آگے بڑھ کر اس تحریک پر لبیک کہنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں اور ہمیشہ ہر مالی قربانی میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو یادرکھیں یہاں اولین طور پر سرسبز شاخیں مراد ہیں۔میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا۔“ یہاں لازمی چندے مراد نہیں ہیں طوعی چندے مراد ہیں جیسا کہ تحریک جدید ہے، جیسا کہ وقف جدید ہے۔لازمی چندے وہی ہیں جن کو جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں اپنے اوپر بحیثیت جماعت اور افراد پر ذمہ داریاں ڈالتے ہوئے بحیثیت جماعت اختیار کر لیا ہے اس جماعت کے فیصلہ میں ساری جماعت داخل ہے۔پس جو اپنے اوپر خود لازم کر چکے ہیں یہاں وہ بحث نہیں ہو رہی۔اس میں تمام قسم کی وہ تنظیمات جو فیصلہ کر کے ایک چندے کو اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں وہ بھی شامل ہیں یعنی خدام الاحمدیہ، انصار اللہ، لجنہ اماءاللہ جتنی بھی جماعتی تنظیمات ہیں ان میں چندوں کے لازم ہونے کی آگے قسمیں بنائی گئی ہیں۔مرکزی چندہ عام کہلاتا ہے۔طوعی لازمی چندہ وصیت کا چندہ ہے۔پھر اس کے علاوہ خدام الاحمدیہ کا چندہ، انصار اللہ ، لجنہ اماء اللہ وغیرہ۔ان سب کے چندے، اطفال کے چندے، یہ لازم تو ہیں مگرمل کر جماعت نے خود لازم کئے ہیں۔جو تحریک جدید کا یا وقف جدید کا چندہ ہے یہ ان معنوں میں لازم نہیں ہے۔اگر کوئی بنیادی چندے ادا کر رہا ہو اور یہ چندے نہ دے تو جماعت کی طرف سے اس پر کوئی حرف نہیں رکھا جاتا۔یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ جماعت کا حصہ ہے لیکن وہ اولین اور سابقین میں شمار نہیں ہوسکتا۔جو آگے بڑھنے