خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 770
خطبات طاہر جلد 17 770 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں الحکم جلد 5 نمبر 45 صفحہ :3 مؤرخہ 10 دسمبر 1901ء) تو اس خزاں میں جو بہار آ گئی ہے اس بہار سے جو درخت پھوٹتے ہیں ان میں سے بھی پھر بہت سے خزاں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں یعنی چاروں طرف بہار ہی بہار کا منظر ہوتا ہے لیکن بدنصیبی کہ کچھ ٹہنیاں پھر خشک ہونے لگتی ہیں جو خزاں میں سوکھتی ہیں ان کا قصور نہیں مگر جو بہار میں سوکھ جائیں وہ بہت قصور وار ہوا کرتی ہیں۔خزاں کے سوکھے ہوؤں کو آگ میں ڈالنا تو بسا اوقات بے وقوفی ہوگی کیونکہ زمیندار کو پتا ہے کہ یہی درخت ہرا بھی ہو سکتا ہے اور اکثر خزاں کا خشک دکھائی دینے والا درخت بہار میں ہرا ہو جایا کرتا ہے تو جو جلد بازی سے کام لے اور اس کو کاٹ کے ایندھن کے طور پر استعمال کرے وہ انتہائی بے وقوفی کر رہا ہو گا اور اپنے آپ کو خود نقصان پہنچارہا ہو گا اس لئے خزاں کا سوکھا ہوا جہنم میں نہیں ڈالا جاتا لیکن بہار کا سوکھا ہوا اس بات کا سزاوار ہے کہ اسے جہنم میں جھونک دیا جائے سوائے اس کے کہ وابستہ رہے اس اُمید پر کہ شاید مجھ پر بہار آ جائے۔تو احمدی بھی دو قسم کے ہیں۔ایک وہ ہیں جو وابستہ رہتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو اتنے مرجاتے ہیں، ایسے بے روح ہو جاتے ہیں کہ پھر وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا تو اس جماعت میں رہنے کا فائدہ ہی کوئی نہیں۔بہتر ہے کہ ہم دُنیا کے فوائد حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس جماعت سے کلیۂ تعلق کاٹ لیں پھر جوسرسبزی ان کو دکھائی دیتی ہے وہ محض دھوکا ہے۔اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔وہ ایک دُنیا کی سرسبزی ہے جو جتنا ان کو بڑھائے گی اتنا ہی بڑا وہ ایندھن بنیں گے۔یہ مضمون قرآن کریم نے بہت سی اور آیات میں بڑے لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے کہ دُنیا کی روئیدگی ، دُنیا کی سرسبزی کوئی بھی فائدہ نہیں دیتی۔تو دیکھنے میں بعض دفعہ لگتا ہے۔پس وہ لوگ جو اُمید بہار رکھتے ہوئے درخت کے ساتھ اپنا تعلق نہیں توڑتے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر شاید اللہ کا رحم ہو اور ہم پھر زندہ ہو جائیں ، وہ خوش نصیب لوگ ہیں۔جو تعلق توڑ لیتے ہیں وہ پھر ہمیشہ کے لئے اپنی دُنیا اور اپنی عاقبت کو ، انجام کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر دیتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام کو غور سے سنو اور جس حد تک ہو سکے اس سے استفادہ کرو۔