خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 66

خطبات طاہر جلد 17 66 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء آپ ہر برائی سے پاک ہے کیونکہ وہی ایک ہے جو ہے اور باقی سب نہیں ہیں۔ جو وجود نہیں ہیں وہ برائیاں ہیں، وہ سائے ہیں ، وہ اندھیرے ہیں ، جو ہے وہ اللہ ہے اور وہ آکبر ہے۔ اس اکبر کی ذات پر جب نے غور کرنا شروع کیا تو یہ بات آپ پر بیج پ پر بخوبی روشن ہو جائے گی کہ یہاں اب حمد نہیں۔ پھر الحَمدُ لله ان معنوں میں بھی آپ کے دل سے اٹھے گا کہ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے میں نے کیا پایا۔ جو کھونے والی چیزیں تھیں شکر الحمد للہ میں نے ان کو کھو دیا ان کو دل سے نکال کر باہر پھینک دیا اور جو پانے والی ذات تھی اس کو پایا ہے اس پر جتنا بھی میں شکر ادا کروں اتنا کم ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ بہت ہی قابل حمد ہے وہ ذات جو تمام جہانوں کا رب ہے پس رسول اللہ صلی الا السلام نے وہ ذکر ہمیں سکھا دیا ہے جو بظاہر ہمیں معلوم تھا لیکن فی الحقیقت ہم اس سے ناواقف تھے۔ اب مسند احمد بن حنبل کی ایک حدیث جو حضرت ابن عمر ہی سے مروی ہے وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ رمضان میں جو اعتکاف ہوا کرتا تھا آنحضرت صلی اللہ السلام کیسے اعتکاف بیٹھتے تھے وہ کون سی دُنیا تھی جس میں ڈوبا کرتے تھے۔ رمضان میں جب تیزی آتی تھی ، اجود ہو جاتے تھے وہ کیا قصہ تھا۔ یہاں ایک جھلکی ہمیں نظر آتی ہے اس بنا پر کہ بعض لوگ اعتکاف میں ذرا اونچی تلاوت کرتے تھے اُن کا اونچی تلاوت کرنا ہم پر ہمیشہ کے لئے احسان ہو گیا کیونکہ اس ضمن میں رسول اللہ صلی السلام کے دل کا حال ، اس کی ایک جھلک دکھائی دی۔ یہ وہ باتیں تھیں جو رسول اللہ صلی لا کی تم شاید از خود اپنے متعلق نہ بیان کرتے مگر ان لوگوں نے مسجد میں جو تھوڑا سا ایک قسم کا ہلکا سا شور یعنی وہ بھی شور ایسا جو تلاوت کا شور ہے وہ بلند کیا تو رسول اللہ صلی الا ای یتیم کے اس تخلیہ میں مخل ہو گئے جو آپ کا اور اللہ کا تخلیہ تھا۔ اس لئے مجھے یہ حدیث بہت پیاری لگتی ہے کیونکہ ان لوگوں کی تلاوت کے متعلق رسول اللہ صل اللہ السلام نے ان کو نصیحت فرمائی اور اب بھی ہماری مسجدوں میں شاید اس کی ضرورت پیش آئے مگر اصل بات جو ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی ایام کی خلوت کا ایک منظر، ایک جھلکی ہم نے اس حدیث میں دیکھ لی ۔ رسول اللہ صلی السلام نے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا۔ آپ کے لئے کھجور کی خشک شاخوں کا حجرہ بنادیا گیا۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ رمضان کے دنوں میں مسجد کی Capacity کو آپ لوگ جب جانچتے ہیں اور مجھے لکھتے ہیں کہ اس میں اتنے آدمیوں کی Capacity ہے تو اتنوں کو اعتکاف میں بیٹھنے دیا جائے یہ Capacity کا معیار درست نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی السلام کا حجرہ ایسا تھا کہ وہاں با قاعدہ ایک خیمہ سا بنایا گیا یعنی ایک جھونپڑی سی بنائی گئی اور اردگرد کافی دور تک دوسرے لوگ