خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 767
خطبات طاہر جلد 17 767 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء ان کے پاک ہونے کی علامت ان کے مزید خرچ ہوں گے۔یہ بظاہر ایک عجیب سی بات دکھائی دیتی ہے مگر روز مرہ کے تجر بہ میں بالکل صاف دکھائی دینے والی چیز ہے۔اللہ کی راہ میں جو شخص ایک بظاہر کڑوا گھونٹ بھر کے کچھ خرچ کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس خرچ سے مجھے کچھ تکلیف پہنچی ہے لیکن رضائے باری تعالیٰ کی خاطر، نہ کہ دکھاوے کے لئے وہ کچھ خرچ کر لیتا ہے، اس کی توفیق ہمیشہ بڑھائی جاتی ہے۔خرچ کرنے کی توفیق مال ہی تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایسا شخص پھر کچھ اپنا وقت بھی دین کے لئے خرچ کرنے لگتا ہے اور اپنے علم کو بھی دین کے لئے خرچ کرتا ہے۔جو کچھ بھی اللہ نے اسے عطا کیا ہے جذبات، کیفیات، ہر چیز خرچ کرنے کا ایک ڈھنگ ہے اور رفتہ رفتہ اللہ سے یہ ڈھنگ سکھاتا ہے کہ کس طرح اللہ کی راہ میں وہ سب کچھ دو جواللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے۔یہ مضمون ہے جس کا جماعت احمدیہ سے بہت گہرا تعلق ہے اور آج چونکہ تحریک جدید کا، نئے سال کا اعلان ہونے والا ہے اس لئے میں نے اسی مضمون کو آج کے لئے اختیار کیا ہے۔اب اس مضمون کی مزید وضاحت میں بعض احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کی روشنی میں کرتا ہوں۔پہلی حدیث تو مسلم كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ سے لی گئی ہے۔یہ حضرت مطرف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے جو اپنے والد سے بیان کرتے ہیں۔ان کے والد نے مطرف سے بیان کیا کہ میں آنحضرت صلی شمالی یتیم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ صلی شمالی تیم سورۃ الھکم التکاثر پڑھ رہے تھے۔( آپ صلی شیا کی تم نے اس کی تلاوت کے بعد فرمایا : ) ابن آدم کہتا ہے میرا مال، ہائے میرا مال۔اے ابن آدم! کیا کوئی تیرا مال ہے بھی۔“ ایک بہت ہی لطیف انداز ہے انسان کو اس مال کے متعلق متنبہ کرنے کا جسے وہ اپنا سمجھ رہا ہے۔ہر شخص جو دنیا میں اللہ کی طرف سے عارضی طور پر مالک بنایا جاتا ہے وہ اسے اپنا ہی مال سمجھتا ہے مگر ایک یہ بھی کہنے کا انداز ہے کہ اے ابن آدم کیا تیرا کوئی مال ہے بھی سوائے اس مال کے جو تو نے کھایا اور ختم کر دیا۔“ وہ تیرا کہاں رہا۔جو انسان نے کھایا اور خرچ کر کے ختم کر دیا وہ تو اب اپنا مال نہیں ہے۔جو پہن لی وہ پہن لیا۔جو بوسیدہ ہو گیاوہ ختم ہو گیا اور تیرے کام کا نہیں ہاں جو تو نے صدقہ دیاوہ تیرے لئے اگلے جہان میں فائدے کا موجب ہوسکتا ہے لیکن وہ تو اگلے جہان کے لئے بھیج چکا ہے اب وہ تیرا مال نہیں رہا۔(صحیح مسلم، کتاب الزهد والرقائق ، حدیث نمبر : 2958)