خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 768

خطبات طاہر جلد 17 768 خطبہ جمعہ 6 نومبر 1998ء تو نے اللہ کی راہ میں قربان کر دیا اسے آگے بھیج دیا اب آگے جاکے دیکھے گا کہ اس کا کیا بنا تھا۔تو جو بچوں کے لئے پیچھے چھوڑ دیا وہ تو مرتے وقت اپنا رہتا ہی نہیں کسی اور کا ہو جاتا ہے۔تو کتنا لطیف انداز ہے یہ سمجھانے کا کہ ابن آدم خواہ مخواہ شور مچاتا ہے میر امال ، میرا مال ، اس کا مال تو کچھ نہیں ، وہم ہے صرف۔جو خرچ کیا وہ جیسا کہ میں نے عرض کیا وہ تو اس کا رہتا ہی نہیں ، ہاں خرچ کرنے سے پہلے کوئی مال اس کا ضرور ہوتا ہے اور یہ اس میں مضمر ہے۔یہ مراد نہیں کہ بالکل ہے ہی کچھ نہیں۔مراد یہ ہے کہ کچھ ہے تو سہی مگر اس کا وہ تب بنے گا اگر اس کا خرچ اچھا ہوگا اور یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم کی ان آیات میں بیان ہوا ہے جو میں نے پہلے بیان کر دیا تھا۔اپنا مال اگر بنانا ہے تو اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ تمہارا ر ہے گا۔جو اس دُنیا میں خرچ کرو گے وہ بھی تمہارا ہوگا ، جو اُس دُنیا کے لئے آگے بھیجو گے وہ بھی تمہارا ہی ہوگا باقی سب کچھ خرچ تو کرو گے مگر خرچ کے ساتھ ساتھ ہی تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے گا اور تمہارا نہیں رہے گا۔یہ مضمون وہ ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ملفوظات میں یا اپنی کتب میں مختلف رنگ میں ان آیات کے مضمون کو کھولا ہے۔سب سے جو پیارا اقتباس اس پہلو سے کہ جماعت احمدیہ کو اتنے پیار اور محبت سے مخاطب فرمایا ہے کہ شاید ہی کسی اور تحریر میں اس طرح بے ساختہ پیار پھوٹ رہا ہو جس طرح اس عبارت میں ہے جو فتح اسلام صفحہ 34 سے لی گئی ہے۔”اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو!“ اتنا عظیم محبت کا اظہار ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔اے میرے عزیز و! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک درخت وجود تھا اور اس میں وہی شاخیں آپ کی تھیں جو سر سبز تھیں اور جو خشک ٹہنیاں ہر سرسبز درخت سے لٹکی ہی رہتی ہیں وہ سرسبز درخت کی نہیں رہتیں۔تو یہ عرفان کی شان ہے کہ آپ نے وہی مضمون جو ان آیات میں بیان ہوا ہے جس کی مزید وضاحت حدیث نے کی ہے اسی مضمون کو ایک نئے انداز میں پیش فرما رہے ہیں۔فرمایا بظاہر میری جماعت میں تمہیں خشک ٹہنیاں بھی دکھائی دیں گی وہ تو ہر درخت کا حصہ ہوا کرتی ہیں۔ہر درخت ان خشک ٹہنیوں کی پہلے آبیاری خود کیا کرتا ہے، ان کو اٹھاتا ہے، ان پر خرچ کرتا ہے یعنی درخت بھی اگر زندہ ہو اور باشعور ہو ، زندہ تو ہے مگر اس طرح باشعور نہیں جیسے ہم سمجھتے