خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 742 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 742

خطبات طاہر جلد 17 742 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء عورت ہے جو شر ما نہیں رہی اور کھل کر باتیں کرتی ہے اور رسول اللہ لیا کہ تم فرماتے ہیں یہ کیسی عمدہ عورت ہے اس نے ان باتوں کو کھول کر بیان کیا کیونکہ اگر وہ تنہائی میں چھپ کر کرتی تو پھر یہ خطرہ تھا کہ باقی لوگوں کی تربیت اس معاملہ میں نہ ہو سکتی۔یہ حدیث یہ ہے، ایک لمبی حدیث سے ایک ٹکڑا لیا گیا ہے ، ایک انصاری خاتون کے متعلق ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی ا یہ تم سے میاں بیوی کے تعلقات کے بعد نہانے کے متعلق سوال کئے۔اس روایت کے آخر پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا وہ فرماتی ہیں کہ : وو رسول اللہ صلی یہ تم نے انصاری خواتین کی تعریف فرمائی۔یہ انصاری خواتین کتنی اچھی ہیں۔( فرمایا : ) انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں انہیں حیادین سیکھنے سے نہیں روکتی۔“ (سنن ابی داؤد، كتاب الطهارة، باب الاغتسال من المحيض، حدیث نمبر : 316) اور حیا اچھی بھی ہے اور بڑی بھی ہے۔حیا اگر دین سیکھنے کے بارے میں آئے تو یہ حیا نہیں، بے حیائی ہے اور دین سکھانے کے متعلق آئے تو یہ بھی حیا نہیں بے حیائی ہے۔تو یہ دونوں سبق اسی حدیث سے مل گئے کہ بعض موقع پر رسول اللہ صلی یا ایتم کنواری سے بڑھ کر حیادار اور بعض موقع پر جہاں اعلیٰ مقصد پیش نظر ہو بے حد کھل کر بات کرنے والے۔جہاں عام آدمی اپنے مزاج کی کمزوری کی وجہ سے شرما جاتے ہیں، رسول اللہ مایا تم نہیں شرماتے۔ترمذی باب النکاح سے یہ حدیث لی گئی ہے اور مسند احمد بن حنبل میں بھی یہی حدیث ہے۔حضرت ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت رسول کریم صلی له اسلام نے فرمایا: وو چار باتیں انبیاء کی سنت میں سے ہیں۔“ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ یعنی پیغمبروں کی سنت میں سے ہیں۔یہاں انبیاء کا لفظ ترجمہ میں غلط ہو گیا ہے۔میں نے اس لئے دوبارہ دیکھا ہے کیونکہ یہاں جس پیغام کے ساتھ آتے ہیں اس پیغام کا ذکر ہونے کے لحاظ سے مُرسلین ہونا چاہئے تھا اور لفظ مرسلین ہی ہے جو آنحضرت سلی لا یہ تم نے فرمایا۔”مُرسَلین کی سنت میں سے ہے : التَّعَظُرُ وَالنِّكَاحُ، وَالسّوَاكُ، وَالْحَيَاءُ“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند أبي أيوب الأنصاري، مسند نمبر :23581/ جامع الترمذی، ابواب النکاح، باب ماجاء في فضل التزويج والحق عليه، حدیث نمبر : 1080)