خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 743 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 743

خطبات طاہر جلد 17 743 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء یہ بھی یا درکھیں کہ خوشبو لگا کر پھرنا یہ اسلام کا حصہ ہے کیونکہ اگر کسی کے بدن سے بد بو آتی ہے تو وہ لوگوں کو کچھ تکلیف ضرور پہنچاتا ہے۔بعض دفعہ گندے پاؤں کے ساتھ ، گندی جرابوں کے ساتھ بچے نماز پڑھتے ہیں یا بڑے بھی، جو پچھلے پڑھنے والے ہیں ان کی نمازیں تو بالکل تباہ ہو جاتی ہیں۔وہ دعا کرتے ہیں کہ سجدہ جلدی ختم ہو۔بجائے اس کے کہ سجدہ میں اور دعائیں کریں وہ سجدہ ختم کرنے کی دعا کرتے ہیں تو یہ نقصان ہے۔فرمایا مومن اور مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اس کے بدن سے بد بو آئے۔اس کا برعکس زیب دیتا ہے، اس کے بدن سے خوشبو اٹھنی چاہئے۔شادی کرنا : مراد یہ ہے کہ جس طرح یہود کے بعد عیسائیوں نے رہبانیت اختیار کر لی تھی اور اس کو نیکی سمجھتے تھے فرمایا یہ نیکی نہیں ہے، انبیاء کی سنت کے خلاف ہے اور خاص طور پر رسول اللہ صلی علی ہستم کی سنت کے خلاف ہے۔جو طبعی جذبات انسان کے اندر خدا نے پیدا فرمائے ہیں ان کے برمحل استعمال سے شرمانا نہیں چاہئے اور یہ دونوں مضمون دراصل اس لحاظ سے حیا سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔اس بات سے شرماؤ کہ کسی کو تکلیف پہنچاؤ۔اس بات سے نہ شرماؤ کہ جہاں اللہ نے بعض چیزوں کی اجازت دی ہے جو ویسے تم دنیا سے چھپاتے پھرتے ہو یعنی وہ تعلقات جہاں اجازت نہ ہو ان کو چھپانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر ان تعلقات کو چھپاؤ بھی مگر علم ہوسب کو کہ وہ تعلقات ہیں۔یہ ہے ہے مضمون جس کے متعلق فرمایا کہ یہ مرسلین کی سنت میں سے ہے۔مسواک کرنا: یہ دراصل اپنے منہ سے اٹھنے والی بد بو کوروکنے کے لئے اور لوگوں کو اپنی بد بوسے بچانے کے لئے دونوں طرح ہے اور پھر چونکہ منہ سے اللہ کا ذکر ہوتا ہے فرمایا کہ ایسے منہ سے خدا کا ذکر نہ کرو جس سے بد بو اٹھتی ہو۔اور آخر پر فرمایا حیا: حیا بھی تمام پیغمبروں کی سنت تھی۔اب اس مضمون کے جو باقی حصے ہیں وہ انشاء اللہ آئندہ خطبات میں میں بیان کروں گا۔اب وقت ختم ہو گیا ہے۔