خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 738
خطبات طاہر جلد 17 738 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء اور مچھر پر کیا ہوتا ہے۔مچھر پر اس بیماری کے جراثیم چڑھے ہوئے ہوتے ہیں جو دُنیا میں سب سے زیادہ مہلک بیماری ہے۔دُنیا میں جتنی اموات ہوتی ہیں براہ راست یا بالواسطہ اس بیماری سے تعلق رکھتی ہیں یعنی ان کی بھاری اکثریت نہ کبھی جنگوں سے ایسی تباہی آئی نہ کسی وبا سے اتنی مو تا موتی ہوئی جتنا ملیریا کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ملیریا سے براہ راست مرنے والوں کی تعداد بھی کروڑ ہا تک پہنچ جاتی ہے اور ملیر یا جو اثرات پیچھے چھوڑ جاتا ہے اس سے بھی کروڑ ہا اموات ہوتی رہتی ہیں اور بیماریاں لگی رہتی ہیں۔اب سندھ کے علاقہ میں لوگ جانتے ہیں کہ ان کو پھیپھڑوں کی بیماریاں لگ جاتی ہیں، گنٹھیا ہوجاتا ہے، سل ہو جاتی ہے اور یا نمونیہ سے مرجاتے ہیں۔یہ ساری خرابی دراصل مچھر نے کی ہوئی ہے۔مچھر نے کاٹ کاٹ کے ان کو ایسا بخار چڑھایا جس میں انسان چادر اوڑھ لیتا ہے اور جب بخار ٹوٹتا ہے تو انسان چادر اتار دیتا ہے اور اس قدر سردی ماحول میں ہوتی ہے کہ وہ اس فرق کی وجہ سے بڑا سخت بیمار ہو جاتا ہے۔تو یہ تو بہر حال تفصیلی بحثیں ہیں ان میں میں اب یہاں نہیں جانا چاہتا مگر میں سمجھا رہا ہوں کہ جن علاقوں میں ملیریا ہے وہ جانتے ہیں کہ مچھر کی کیسی بڑی تباہی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اس سے شرما تا نہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ مچھر پیدا کرنے میں کچھ گہرے راز ہیں۔ان بیماریوں کے نتیجہ میں انسانی ارتقاء میں مددملی ہے اور انہی بیماریوں کے نتیجہ میں جو مچھر نے پھیلائی ہیں جانوروں میں بھی آغاز سے بہت زیادہ ارتقاء کی طرف قدم اٹھا ہے اور انسان کے اندر جو مدافعاتی نظام ہے وہ سارا مچھر کی بیماری کے نتیجہ میں مقابلہ کی کوشش میں پیدا ہوا ہے۔اب یہ مضمون ایسا ہے جو ایک علم کا جہان اپنے اندر رکھتا ہے اور اسی طرف اصل میں اشارہ ہے۔اللہ کا یہ مطلب نہیں کہ میں بیماریاں پیدا کرنے سے نہیں شرماتا۔فرمایا تم جس کو سمجھتے ہو کہ قابل شرم بات ہے تم سوچتے نہیں کہ وہ قابل شرم بات نہیں وہ قابل افتخار بات ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو تم آج اتنی ترقی نہ کر سکتے اور اس ترقی میں اس چھوٹے سے کیڑے نے دخل دیا ہے اور اس چیز نے فَما فوقها جس کو یہ اٹھائے پھرتا ہے۔تو یہ بہت ہی گہرا اور دلچسپ مضمون ہے اور یہاں سے حیا کرنا اور حیا نہ کرنا ہم پر واضح ہو جاتا ہے۔اگر دیا کریں تو بظاہر لوگ سمجھیں کہ حیا کرنے میں ہماری سبکی ہے لیکن اگر آخری صورت میں ہماری حیا کا مقصد اصلاح ہے اور وہ اصلاح بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاتی ہے تو اپنی حیا سے شرما نانہیں چاہئے۔