خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 729
خطبات طاہر جلد 17 729 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء مگر اب تو اکثر یہ پیرایہ مکاروں اور فریب دہ لوگوں کا ہو گیا ہے۔سبز کپڑے ، بال سر کے لمبے، ہاتھ میں تسبیح ، آنکھوں سے دمبدم آنسو جاری۔“ یہ نظارہ پاکستان کے فقیروں کو جس نے دیکھا ہو یا بنگلہ دیش کے فقیروں کو دیکھا ہو وہ گواہی دے گا کہ بعینہ یہی کیفیت ہوتی ہے لوگوں کی۔لبوں میں کچھ حرکت گویا ہر وقت ذکر الہی زبان پر جاری ہے اور ساتھ اُس کے بدعت کی پابندی۔یہ علامتیں اپنے فقر کی ظاہر کرتے ہیں مگر دل مجذوم، محبت الہی سے محروم۔“ مجزوم وہ جسے کوڑھ ہوا ہو۔محبت الہی کی علامتیں ظاہر کرتے ہیں مگر کوڑھی دل سے محبت الہی کیسے اٹھ سکتی ہے۔دل مجذوم مگر محبت الہی سے محروم۔الاماشاء اللہ۔راست باز لوگ میری اس تحریر سے مستثنی ہیں۔جن کی ہر ایک بات بطور جوش اور حال کے ہوتی ہے۔“ وہ لوگ جو دل کے طبعی جوش سے بغیر کسی بناوٹ سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں فرمایا وہ لوگ مستثنی ہیں جو : بطور جوش اور حال کے ہوتی ہے نہ بطور تکلف اور قال کے۔“ تکلف کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ دکھاوا ہے بناوٹ ہے اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور قال سے مراد ہوتی ہے کہنا، صرف کہنے کی باتیں ہیں حقیقت کی باتیں نہیں ہیں۔بہر حال یہ تو ثابت ہے کہ گریہ وزاری اور خشوع اور خضوع نیک بندوں کے لئے کوئی 66 مخصوص علامت نہیں۔“ یعنی ان باتوں کو دیکھنے کے بعد ایک بات تو قطعیت سے ثابت ہو جاتی ہے کہ محض خشوع وخضوع اور آنکھوں سے آنسو جاری ہونے کو نیک بندوں کی علامت قرار نہیں دیا جاسکتا۔بلکہ یہ بھی انسان کے اندر ایک قوت ہے جومحل اور بے محل دونوں صورتوں میں حرکت کرتی ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 195,194)