خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 728 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 728

خطبات طاہر جلد 17 728 خطبہ جمعہ 23اکتوبر 1998ء اس قدر جلدی سے اپنے موٹے موٹے قطرے برساتے ہیں کہ باہر سونے والوں کورات کے وقت فرصت نہیں دیتے کہ اپنا بستر بغیر تر ہونے کے اندر لے جاسکیں۔“ یہ جو تشریح فرمائی ہے بہت ہی دلچسپ ہے اور راتوں کو باہر سونے والے، جیسا کہ ربوہ میں ہم گرمیوں میں باہر ہی سویا کرتے تھے، ان کو اس بات کا تجربہ ہے کہ بعض دفعہ بارش اتنازور سے، اتنا اچانک برستی ہے کہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ اپنے بستر کے کپڑے سنبھال لے،سنبھالتے سنبھالتے وہ گیلے نہ ہو چکے ہوں تو اندرا اکثر بھیگے ہوئے بستر ہی پہنچا کرتے تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی بڑے غور سے دیکھتے اور موقع اور محل پر اس یاد کو استعمال فرمایا کرتے تھے چنانچہ اس موقع پر بھی آپ نے فقیروں کی آنکھوں سے گرنے والے قطروں کی بہت ہی پیاری مثال دی ہے یعنی ان کے قطرے تو پیارے نہیں ہیں جو گرتے ہیں مگر مثال بہت عمدہ ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ واقعہ بعض لوگ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں آپ نے خود دیکھے ہیں کہ اچانک ان کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرنے شروع ہو جاتے ہیں۔کہاں سے آئے ، کب پیدا ہوئے کچھ مجھ نہیں آتی۔آگے جا کر فرماتے ہیں: میں اپنی ذاتی شہادت سے گواہی دیتا ہوں کہ اکثر ایسے شخص میں نے بڑے مکار بلکہ دُنیا داروں سے آگے بڑھے ہوئے پائے ہیں اور بعض کو میں نے ایسے خبیث طبع اور بددیانت اور ہر پہلو سے بدمعاش پایا ہے کہ مجھے ان کی گریہ وزاری کی عادت اور خشوع و خضوع کی خصلت دیکھ کر اس بات سے کراہت آتی ہے کہ کسی مجلس میں ایسی رفت اور سوز وگداز ظاہر کروں۔“ یعنی سوز و گداز پیدا بھی ہو تو بمشکل ضبط کرتا ہوں اور ضبط کرنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ ایسے بدبختوں کا نظارہ کیا ہوا ہے اور ان کی یاد حائل ہو جاتی ہے اس بات میں کہ میں بے اختیار اپنے دل سے اٹھنے والے سوز و گداز کو اجازت دوں کہ وہ آنکھوں سے برسے۔ہاں کسی زمانہ میں خصوصیت کے ساتھ یہ نیک بندوں کی علامت تھی۔“ اب تو بدوں سے دنیا بھر گئی ہے کسی زمانہ میں نیک لوگ یہ کیا کرتے تھے اور ان پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔