خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد 17 62 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء در وا کر دیں اور پوری کوشش کریں کہ رمضان کی برکتیں ہر طرف سے آپ کو گھیر لیں اور آپ کے اندر اس طرح داخل ہو جائیں جیسے سورج طلوع ہو جاتا ہے۔ اب بخاری شریف کی ایک حدیث میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے۔ آنحضرت صلی السلام السلام کے بعض صحابہ کولیلۃ القدر رویا میں دکھائی گئی فی السبع الاواخر، آخری سات دنوں میں ۔ ( یعنی اس سال جو خاص لیلۃ القدر کا طلوع انفرادی طور پر لوگوں پہ ہوا کرتا ہے وہ آخری سات دن سے تعلق رکھتا تھا) اور رسول اللہ صلی السلام نے اس کی تائید فرمائی کہ اگر یہ رویا ہیں اور تم سب لوگ ان باتوں میں اکٹھے ہو گئے ہو تو پھر تم آخری سات دنوں میں اس کی تلاش کرو۔“ (صحيح البخاری، کتاب فضل ليلة القدر ، باب التماس ليلة القدر في السبع الأواخر، حدیث نمبر : 2015) اب آپ کے لئے آخری چھ دن باقی ہیں اور اس حدیث کی روشنی میں یہ واقعہ بار بار بھی ہو سکتا ہے یعنی اس لئے کہ صاف پتا چلا کہ لیلتہ القدر جگہ بدلتی رہتی ہے۔ کبھی اکیس کو آ گئی کبھی تنیس کو۔ عام طور پر اکیس، تئیس ، پچیس ، ستائیس اور انتیس ان راتوں میں آیا کرتی ہے۔ تو ابھی ہمارے پاس کچھ دن باقی ہیں جن میں بعید نہیں کہ اس سال ، ان اواخر میں ہی لیلتہ القدر ظاہر ہو ۔ پس جن لوگوں نے اس سے پہلے کا رمضان ضائع کر دیا ان کے لئے خوش خبری ہے۔ آنحضرت صلی السلام نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب رمضان کے آخری ہفتہ پر متفق ہیں اس لئے جو شخص لیلۃ القدر کی تلاش کرنا چاہتا ہے وہ رمضان کے آخری ہفتہ میں کرے ۔ عام دستور رسول اللہ صلی السلام کا یہ تھا کہ اپنے جاگنے کے ساتھ یعنی آپ صلی اللہ السلام کا جاگنا تو ایک اور معنی بھی رکھتا تھا یعنی وہ شعور خدا تعالیٰ کی صفات کا جو نیا سے نیا رسول اللہ صلی الا الہ سلیم کو نصیب ہوا کرتا تھا ان معنوں میں آنحضرت صلی السلام ہر دفعہ اور بیدار ہوا کرتے تھے اور ہر شب بیداری کے نتیجے میں آپ صل ال السلام کا شعور ان معنوں میں بیدار ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا وہ تصور آپ صلی یکم پر نازل ہوتا تھا جو پہلے تصور سے بالا تر تھا۔ ان معنوں میں آپ مالی ایلام ہمیشہ ترقی کرتے رہے، ہمیشہ بلند پروازی کرتے رہے۔ ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جس میں کوئی بلند پروازی ایک جگہ ٹھہر جائے کہ جو کچھ میں نے پانا تھا پالیا کیونکہ خدا کی ذات نہیں ٹھہرتی ، خدا کی ذات لامتناہی ہے۔ پس جب میں بیداری کی بات کرتا ہوں تو عام انسان کی بیداری کی بات نہیں کرتا۔