خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 724 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 724

خطبات طاہر جلد 17 724 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء البتہ وہ تمام آئندہ کمالات کے لئے تخم کی طرح ہے۔“ فرمایا ایک بیج کی طرح ضرور ہے۔وہ وقت جب انسان کا دل متزلزل ہو چکا ہو اور وقتی طور پر ہی سہی، خشیت طاری ہو وہ آئندہ انسان میں نفس کی تبدیلی کے لئے ایک بیج کا کام دے سکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں جو سفر شروع ہو وہ ایک دائمی سفر بن سکتا ہے۔مگر اسی حالت کو کمال سمجھنا اپنے نفس کو دھوکا دینا ہے بلکہ بعد اس کے ایک اور مرتبہ ہے جس کی تلاش مومن کو کرنی چاہئے اور کبھی ( بھی ) آرام نہیں لینا چاہئے اورست نہیں ہونا چاہئے۔استعین میں یہ تلاش کا معنی کبھی آرام نہ کرنا اور کبھی ست نہ ہونا ، وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة یہ سارا مضمون اسی آیت سے تعلق رکھتا ہے۔جب تک وہ رتبہ حاصل نہ ہو جائے اور وہ وہی مرتبہ ہے جس کو کلام الہی نے ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔(المومنون:4) یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور پہچان ہمیں دکھا دی ہے ایک اور جانچ کا طریقہ سمجھا دیا۔ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے ) کہ ) وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یعنی مومن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ( ہیں ) اور سوز و گداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ باوجود خشوع اور سوز و گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔“ باوجود کا یہاں معنی با وجود کے ان معنوں میں نہیں کہ خشوع نہ بھی ہوتو ایسا ہوفر مایا کہ خشوع کی وجہ سے، خشوع کے وجود کی وجہ سے، باوجود یہاں یہ معنی رکھتا ہے۔با وجود خشوع اور سوز و گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں۔(هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ) اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت ان کے دلوں