خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 725 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 725

خطبات طاہر جلد 17 725 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء میں پیدا ہو جاتی ہے اور یہ اس بات پر دلیل ہوتی ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق ہو گیا ہے کیونکہ ایک طرف سے انسان تب ہی منہ پھیرتا ہے جب دوسری طرف اس کا تعلق ہو جاتا ہے۔“ پس لغویات سے اعراض کا طریقہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تعلق باللہ ہی بتایا ہے۔لغویات سے اچانک تعلق نہیں ٹوٹا کرتا۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ والا جو تعلق ہے وہ اچانک نہیں ٹوٹا کرتا اس میں لازماً صبر کے ساتھ اللہ سے مدد مانگتے ہوئے سب سے پہلی چیز جو مانگنی چاہئے اور سب سے آخری چیز جو مانگنی چاہئے وہ اللہ کا سچا پیار ہے کیونکہ لغویات سے منہ موڑنے کے لئے اس میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔پیار کے نتیجہ میں اگر منہ موڑتے ہیں تو یہ منہ موڑ نا بہت آسان ہے۔ایک طرف کشش زیادہ ہے دوسری طرف کم ہے طبعی بات ہے جس طرف کشش زیادہ ہوگی چیز اسی کی طرف اُٹھ جائے گی۔وقت محسوس نہیں کرتی۔کشش ثقل میں بھی یہی مضمون ہے اور مقناطیس جب وزنی چیزوں کو زمین سے اٹھا لیتا ہے تو کشش ثقل ختم تو نہیں ہو جاتی مگر ایک زیادہ بڑی طاقتور کشش نے اس چیز کو اپنی طرف کھینچ لیا۔پس یہ مضمون ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ زمینی تعلقات تمہیں ہمہ وقت اپنی طرف کھینچتے چلے جائیں گے اور اگر تم ان سے اس طرح چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہو کہ وہ طبعی ہو جائے اس میں تمہیں محنت نہ کرنی پڑے یعنی ایک دفعہ اگر تمہیں اللہ سے تعلق قائم ہو جائے تو وہ تعلق تمہیں کھینچ لے گا اور زمینی تعلق کمزور پڑ جائے گا اگر یہ نہ ہو تعلق نہ کھینچے تو پھر ز مینی تعلق لازماً ہمیشہ بالآخر آپ کو اپنی طرف کھینچتا چلا جائے گا۔وو ” جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 201 202) یہ آخری فقرہ ہے اس اقتباس کا۔باقی انشاءاللہ بقیہ اقتباسات آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا۔