خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 723 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 723

خطبات طاہر جلد 17 723 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء بسا اوقات شریر لوگوں کو بھی نمونہ قہر الہی دیکھ کر خشوع پیدا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ان کو کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا اور نہ لغو کاموں سے ابھی رہائی ہوتی ہے مثلاً وہ زلزلہ جو 4 اپریل 1905 ء کو آیا تھا۔“ یہ کانگڑے کا زلزلہ مشہور ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے عین مطابق وہ نہایت ہولناک زلزلہ آیا جس نے ایک وسیع علاقے پر تباہی مچادی تو فرمایا: ”اس کے آنے کے وقت لاکھوں دلوں میں ایسا خشوع اور سوز و گداز ( پیدا) ہوا تھا کہ بجز خدا کے نام لینے اور رونے کے اور کوئی کام نہ تھا۔“ وہ جھٹکے جو تھے وہ بہت دنوں تک بار بار آتے رہے اس لئے اس سارے عرصہ میں ، جس عرصہ میں زمین دہلتی رہی ان کے دل بھی دہلتے رہے اور خدا کے خوف سے بار بار رونا آتا تھا اور اس کی طرف بظاہر متوجہ ہوتے تھے۔یہاں تک کہ دہریوں کو بھی اپنا د ہر یہ پن بھول گیا تھا۔“ اس قسم کے اور بہت سے واقعات ہماری تواریخ میں بھی محفوظ ہیں۔کوئٹہ کے زلزلے کے وقت بھی کیا ہوا تھا۔کس طرح بعض دہر یہ اس وقت خدا کے قائل دکھائی دینے لگے تھے لیکن جب وقت گزر گیا تو پھر اسی طرح پرانی زندگی کی طرف لوٹ گئے۔اور پھر جب وہ وقت جاتارہا اور زمین ٹھہر گئی تو حالت خشوع نابود ہوگئی۔“ زمین ٹھہر گئی۔اس وقت خشوع کی حالت جو اس قسم کا اضطراب دکھاتی ہے وہ دل کے اضطراب کی کیفیت بھی ٹھہر گئی وہ زمین سے وابستہ تھی نہ کہ تعلق باللہ۔پس جب زمین ٹھہر گئی تو دل کا اضطراب بھی ٹھہر گیا۔فرماتے ہیں : وو سنا ہے کہ بعض دہریوں نے جو اس وقت خدا کے قائل ہو گئے تھے بڑی بے حیائی اور دلیری سے کہا کہ ہمیں غلطی لگ گئی تھی کہ ہم زلزلے کے رعب میں آگئے ورنہ خدا نہیں ہے۔غرض جیسا کہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں خشوع کی حالت کے ساتھ بہت گند جمع ہو سکتے ہیں۔“ اس لئے ہر انسان اپنی خشوع کی حالت کا تجزیہ کر سکتا ہے جب تک گند ساتھ جمع ہیں۔اس حالت خشوع کا نام ایک افسانوی خشوع ہے فرضی اور خیالی اور کہانیوں کا خشوع، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔