خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 702 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 702

خطبات طاہر جلد 17 702 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء پس یہ مضمون اس پہلو سے غور سے سمجھنے کے لائق ہے کہ احسان کی ایک تعریف یہ فرمائی گئی ہے کہ ایک شخص اللہ کو دیکھ رہا ہو، گویا دیکھ رہا ہو کہ وہ اپنے نفس کو بھی دیکھ رہا ہو اور جانتا ہو کہ اس حالت میں جب بھی اللہ کی نظر پڑی میں پکڑا گیا اس کے نتیجہ میں جسم پر لرزہ طاری ہو جائے گا۔پس لرزه طاری کرنے کا مضمون کوئی اتفاقی نہیں ہے اس کی جڑیں گہرے مطالب میں ہیں۔چنانچہ فرمایا اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا۔بسا اوقات ایک انسان کسی کو نہیں دیکھ رہا ہوتا مگر کوئی غیب میں اسے دیکھ رہا ہوتا ہے اس سے بھی ڈرتا ہے۔آج کل انگلستان میں مختلف جو سٹور ہیں، بڑی بڑی دکانیں ہیں ان پر ایسے کیمرے لگ گئے ہیں کہ ایک انسان دیکھ نہیں سکتا کہ کون اسے دیکھ رہا ہے مگر غائب آنکھیں اسے دیکھ رہی ہوتی ہیں۔پس اگر دکاندار کو آنکھوں کے سامنے دیکھے تو اس کے سامنے تو چوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس وجہ سے بھی وہ بچتا ہے کہ دیکھ رہا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔کون ہے؟ وہ نہیں جانتا ، غائب میں ہے۔پس یہ مفہوم ہے، دوسرا احسان کا کہ یہ خیال رکھے کہ اللہ کی نظر اس پر ہر حال میں رہتی ہے۔وہ ظاہری طور پر یا باطنی طور پر اسے دکھائی نہ بھی دے تو یہ احساس ضرور ہے کہ وہ اسے ضرور دیکھ رہا ہے اور اس دیکھنے پر صرف کامل اور بچے متقی کو ہی جرأت ہو سکتی ہے کہ وہ کہے سُبحان من تیرانی پاک ہے وہ جو ہر حال میں مجھے دیکھ رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بالا رادہ اس نے کبھی کوئی بھی خدا کی نافرمانی کا قدم نہیں اٹھایا، نہ خدا کی نافرمانی کی باتیں سوچیں اور اس کامل یقین کے ساتھ وہ کہہ رہا ہے سُبْحَانَ مَن يَرَانی پاک ہے میرا اللہ، پاک ہے وہ ذات جو ہر حال میں مجھے دیکھ رہی ہے۔اور دیکھنے کا مفہوم جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں یہاں محبت اور پیار اور حفاظت کی نظر ڈالنا بھی ہے۔تو پاک ہے وہ ذات جو ہر حال میں مجھ پر حفاظت کی نظر ڈالتی ہے، مجھے کمزوریوں سے بچاتی ہے، مجھے دشمنوں سے نجات دیتی ہے اور دشمنوں سے میری حفاظت فرماتی ہے۔تو فرمایا اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے ضرور دیکھ رہا ہے یہ وہ شخص ہے جو احسان کرنے والا ہے۔عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں ایک لمبی روایت ہے جس میں انہوں نے ایک دعا کا ذکر کیا ہے جس کا تعلق اس مضمون سے ہے۔یہ مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے وہ آنحضرت صل للہ یہ تم کی اس دعا کا اس حدیث میں ذکر کرتے ہیں جو ی تھی : "اللهم۔۔۔أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ “ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة حديث عمار بن یاسر ، حدیث نمبر : 18325)