خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 701
خطبات طاہر جلد 17 701 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء ایک اور حدیث اسی تعلق میں مسلم كِتَابُ الإِيمَانَ بَابُ الْإِسْلَامِ مَا هُوَ وَبَيَانُ خِصَالِهِ سے لی گئی ہے۔مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا باب ہے جس میں الاسلام اور اس کا بیان اور اس کی خصلتوں کا بیان ہے۔ایک سوال کرنے والے نے عرض کیا یا رسول اللہ سلیم احسان کیا ہے؟ فرمایا یہ ہے کہ تو اللہ کی خشیت اختیار کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے ضرور دیکھ رہا ہے۔“ (مسلم كِتَابُ الْإِيمَانَ بَابُ الْإِسْلَامِ مَا هُوَ وَبَيَانُ خِصَالِهِ ، حدیث نمبر :99) یہ مضمون احسان کا قرآن کریم میں بھی بکثرت بیان ہوا ہے اور آنحضرت صلی ہی ایم نے اسے مختلف پہلوؤں سے بیان فرمایا ہے۔یہاں خشیت کے تعلق میں یہ بیان ہے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔انسان اگر اپنے آپ کو بھی دیکھ رہا ہو اور پھر یہ محسوس کرے کہ خدا کو دیکھ رہا ہے تو اس سے خشیت پیدا ہوتی ہے ورنہ اپنا سب کچھ چھپائے پھرتا ہے اور اگر وہ یہ سمجھے کہ خدا دیکھ رہا ہے تو بعض دفعہ دعوی بھی کرتا ہے کہ اللہ گواہ ہے میں تو ٹھیک ٹھاک ہوں۔اللہ دیکھتا ہے کہ مجھ میں تو کوئی بھی خرابی نہیں۔تو ایسے شخص کے دل میں خشیت کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔چنانچہ بارہا مجھے اس کا تجربہ ہوا ہے جب میں کسی سے پوچھتا ہوں کہ دیکھو تم نے یہ حرکت کی ہے تو کہتے ہیں آپ کو کیسے پتا خدا گواہ ہے، اللہ جانتا ہے میرے دل میں تو یہ بات نہیں اور قرآن کریم ایسے لوگوں کی بکثرت مثالیں بیان فرماتا ہے کہ جب آنحضرت صلی ا یہ تم اور صحابہ ان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرتے تھے تو قسمیں کھایا کرتے تھے اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ ہر گز یہ بات نہیں تھی ہم تو بڑے نیک ارادے رکھتے تھے اور آپ لوگوں نے غلط سمجھ لیا ہے۔پس اللہ کے حلف اٹھانے سے، اللہ کی قسمیں کھانے سے یہ یقین نہیں ہو سکتا کہ وہ شخص خدا کو دیکھ رہا ہے اس حال میں کہ اس کے دل پر خشیت طاری ہو۔ایک ہی شرط ہے جو میں نے بیان کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھی دیکھ رہا ہو اور جو اپنے آپ کو دیکھ رہا ہو اس کے دماغ میں تکبر کا کیڑا بھی نہیں پڑسکتا۔اگر کوئی بری حرکت کرتے ہوئے یا چوری کرتے ہوئے دیکھ لے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو اس شخص کے رعب سے جتنا بھی وہ رعب ہے اس کے دل میں خشیت طاری ہوگی لیکن کوئی دیکھ رہا ہو اور پتانہ لگے کہ کوئی کیا کر رہا ہے مجال ہے جو کسی قسم کی خشیت اس پر طاری ہو۔